.

ایران کے جوہری گودام میں یورینیم کی موجودگی کے ثبوت مل گئے: سفارت کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ویانا میں قائم اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے کو ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع ایک ’’خفیہ جوہری گودام‘‘ سے حاصل کردہ نمونوں میں یورینیم کی موجودگی کا پتا چلا ہے اور ایران نے ابھی تک ان نمونوں کی وضاحت نہیں کی ہے۔

عالمی جوہری ایجنسی (آئی اے ای اے) اب یورینیم کے ان عناصر کی مزید تحقیقات کررہی ہے اوراس نے ایران سے ان کی وضاحت طلب کی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک سال قبل ایک نشری تقریر میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے تہران میں ایک گودام بنا رکھا ہے جہاں پندرہ کلوگرام جوہری مواد موجود ہے۔اس مبیّنہ گودام ہی سے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں نے اپریل میں ماحولیاتی نمونے اکٹھے کیے تھے اور انھیں مزید تجزیے کے لیے بھیجا تھا۔

اس کے بعد اسرائیلی اور امریکی میڈیا نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ان نمونوں سے تابکاری مواد کی موجودگی کا پتا چلا ہے۔

اب دو سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نمونے دراصل یورینیم کے تھے۔ایک سفارت کار کے بہ قول یہ یورینیم جوہری ہتھیار کی تیاری کے لیے درکار سطح تک افزودہ نہیں تھی۔ایران نے حال ہی میں چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کو دوبارہ اعلیٰ سطح تک افزودہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایک سفارت کار کا کہناہے کہ اس جوہری مواد کی بہت سی وضاحتیں کی جاسکتی ہیں۔ تاہم ایران نے ابھی تک آئی اے ای کو اس کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا یہ مواد 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے قبل کا ہے یا اس کے بعد ایران نے کسی جوہری تنصیب سے اس مواد کو وہاں منتقل کیا تھا۔

آئی اے ای اے نے گذشتہ ہفتے اپنی سہ ماہی رپورٹ جاری کی تھی لیکن اس میں ایرانی مواد کے ان نمونے کا ذکر نہیں کیا گیا تھا کیونکہ معائنے کے دوران میں حاصل کردہ مواد انتہائی خفیہ تھا۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایران کو ایجنسی کے ساتھ مزید تعاون کرنا چاہیے۔آئی اے ای اے کے پالیسی ساز پینتیس رکنی بورڈ آف گورنرز کا سوموار سے اجلاس شروع ہورہا ہے جو ایک ہفتہ جاری رہے گا اور اس میں ایران کی حالیہ جوہری سرگرمیوں پر غور کیا جائے گا۔