.

قطر ہمارے سیکورٹی اداروں پر کنٹرول کے لیے کوشاں ہے: صومالی اپوزیشن پارٹی سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالیہ میں اپوزیشن کی جماعت "ودجر پارٹی" نے قطری ریاستی سیکورٹی ادارے کے نائب سربراہ کے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کا دورہ کرنے کی وجوہات اور مقاصد پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

"اخبار الصومال" نیوز ویب سائٹ کے مطابق قطری ذمے دار عبداللہ محمد مبارک صالح الخلیفی اتوار کے روز موغادیشو پہنچے تھے۔ انہوں نے صومالیہ کے انٹیلی جنس اور نیشنل سیکورٹی ادارے کے سربراہ فہد یاسین حاج طاہر سے ملاقات کی۔ اس دوران دونوں شخصیات نے قطر اور صومالیہ کے سیکورٹی اداروں کے بیچ تعاون بالخصوص انٹیلی جنس کارروائیوں سے متعلق رابطہ کاری کے قیام پر تبادلہ خیال کیا۔

ویب سائٹ نے مزید بتایا کہ 3 ہفتے قبل قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے بھی صومالیہ کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران صومالی صدر کو اس بات پر قائل کیا گیا کہ فہد یاسین کو ملک کے انٹیلی جنس اور نیشنل سیکورٹی ادارے کا سربراہ مقرر کیا جائے۔ قطری عہدے داران کے یہ دورے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع رپورٹ کے بعد سامنے آئے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ قطر کے صومالیہ کی مسلح تنظیموں کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔ ان میں حرکت الشباب بھی شامل ہے جو القاعدہ تنظیم کے ساتھ مربوط ہے۔

قطری ریاستی سیکورٹی ادارے کے نائب سربراہ الخلیفی کے صومالیہ کے دورے پر تبصرہ کرنے کے لیے اپوزیشن کی جماعت "ودجر" پارٹی کے سربراہ عبدالرحمن عبدالشکور نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کی۔ انہوں نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "قطر صومالیہ کے سیکورٹی اداروں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تا کہ اپنے مقاصد پر عمل درامد کر سکے۔ یہ صومالیہ کی ریاست اور عوام کے مفاد میں نہیں ہو گا بلکہ یہ قطر کی حرص اور ریاست کے اندر اس کو سپورٹ کرنے والی شخصیات کے کام آئے گا۔"

یاد رہے کہ صومالیہ کے ایک سابق سیکورٹی ذمے دار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں انکشاف کیا تھا کہ فہد یاسین حاج نے 10 برس قبل قطر کے الجزیرہ چینل میں کام کرنے کے فوری بعد الاخوان تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ قطر اور الاخوان سے روابط کے بیچ اس نے موجودہ صدر کی انتخابی مہم کی نگرانی کی۔ فہد یاسین کو اس کا ثمر صدارتی محل کے ڈائریکٹر کے منصب کی صورت میں ملا۔ وہ وزیراعظم ، وزارء اور ریاست کے سینئر عہدے داروں کی نامزدگی کے عمل کی بھی نگرانی کرتا رہا۔ یہ تمام وہ افراد تھے جنہوں نے فہد یاسین اور قطر کی پالیسیوں پر عمل درامد کیا۔

اسی طرح سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے ایک سابق جنرل عبداللہ عبداللہ نے قطر کے مفاد میں فہد یاسین کے کردار کا انکشاف کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ قطر اور دہشت گرد تنظیم حرکت الشباب کے درمیان مکمل رابطہ کاری رہی جس نے ملک میں دھماکوں کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ نیویارک ٹائمز اخبار کی جانب سے اِفشا ہونے والی ایک آڈیو ٹیپ میں صومالیہ میں مئی میں ہونے والے دھماکے میں قطر کے کردار کا انکشاف کیا۔

یاد رہے کہ نیویارک ٹائمز نے گذشتہ ماہ ایک آڈیو ٹیپ جاری کیا تھا۔ ٹیپ میں امیر قطر کا مقرب ایک کاروباری شخص موگادیشو میں دوحہ کے سفیر سے گفتگو کے دوران بتا رہا ہے کہ شدت پسندوں نے بوصاصو شہر میں دھماکا کیا ہے جس سے قطر کے مفادات کو فائدہ پہنچے گا۔ ٹیپ کے مطابق المہندی نے دھماکوں کے ایک ہفتے بعد قطری سفیر حسن بن حمزہ بن ہاشم سے گفتگو میں کہا کہ "حالیہ دھماکوں کے پیچھے ہمارے دوستوں کا ہاتھ ہے"۔