.

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سیکورٹی میں برطانوی روئل نیوی کا کردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی بحریہ کے ایک سینئر ذمے دار کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہازوں کے بھیجنے جانے کے فیصلے نے اس حساس نوعیت کی آبی گذر گاہ میں تجارتی جہاز رانی کو استحکام بخشنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز نے 19 جولائی کو آبنائے ہرمز میں برطانوی آئل ٹینکر اسٹینا امپیرو کو قبضے میں لے لیا تھا۔ پاسداران کا دعوی تھا کہ مذکورہ جہاز نے سمندری حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس واقعے سے دو ہفتے قبل برطانیہ نے جبل طارق کے نزدیک ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو تحویل میں لے لیا تھا جو بعد ازاں اگست میں چھوڑ دیا گیا۔

برطانوی روئل نیوی کے بیڑے کے کمانڈر وائس ایڈمرل جیری کیڈ کے مطابق آبنائے ہرمز کے علاقے کے لیے بحری جہازوں اور طیاروں کی تھوڑی تعداد مختص کی گئی۔ لندن میں سمندری جہاز رانی سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس کے ضمن میں جیری نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو مزید بتایا کہ "ہم استحکام کی خاطر عسکری ساز و سامان کی تعیناتی عمل میں لائے"۔

برطانوی روئل نیوی نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران برطانیہ کے تقریبا 90 تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں برطانوی نیوی کے حفاظتی جہازوں کی محفوظ ہمراہی میسر آئی۔ ان جہازوں میں تقریبا 60 لاکھ ٹن سامان لدا ہوا تھا۔ نیوی کے مطابق اس دوران برطانوی فریگیٹ (مونٹروز) 12 سے زیادہ مواقع پر ایرانی فورسز کو خبردار کرنے کے لیے روشنی کے جھماکے کرنے پر مجبور ہوئی۔

روئل نیوی کے تمام آپریشنز کی قیادت کے ذمے دار وائس ایڈمرل جیری کیڈ کے مطابق "ہم وہاں قانون اور نظام کے احترام کے واسطے موجود ہیں اور جب تک ضرورت ہو گی ہم وہاں رہیں گے ... ہم برطانیہ کی شاہی بحریہ ہیں اور اپنے جہازوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں"۔

رواں سال خلیج میں متعدد بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات نے ساز و سامان کی عالمی تجارتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ واشنگٹن ان حملوں کا ذمے دار ایران کو ٹھہراتا ہے تاہم تہران اس کی تردید کرتا ہے۔

اگرچہ امریکی فوج کی مرکزی کمان نے ایران پر براہ راست الزام عائد نہیں کیا۔ گذشتہ ماہ اس کا کہنا تھا کہ ہمارے جہازوں نے اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سفر کے دوران ان کے GPS نظام میں تعطل کے واقعات پیش آئے۔

جیری کیڈ کے مطابق خلیج، بحیرہ روم اور بالٹک جیسے علاقوں میں GPS سسٹم کو معطل کیا جانا جہاز رانی کی سیکورٹی کے لیے سخت خطرہ ہے۔