.

ترکی: سابق وزیر اعظم دائود اولو بھی ایردوآن کی جماعت سے علاحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی [آق] کو ایک اور ہنگامہ خیز صورتحال کا سامنا ہے کہ اس کی مرکزی قیادت میں سے ایک اور شخصیت نے اس سیاسی تحریک سے علاحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ترکی کے سابق وزیر اعظم احمد دائود اولو حالیہ دنوں کے دوران ایردوآن کی جماعت کو چھوڑنے والے دوسری مرکزی شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک نئی جماعت کی جلد تشکیل کا اعلان کیا ہے۔

احمد دائود اولو نے جمعہ کو اپنے خلاف پارٹی میں ہونے والی انظباطی کارروائی شروع ہونے کے کچھ ہی دن بعد اپنے عہدے اور پارٹی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دائود اوغلو کے علاوہ تین دیگر سابق ارکان پارلیمان کو بھی ایردوآن کی آق پارٹی کی جانب سے ڈسپلن کی خلاف ورزی پر پارٹی سے نکالے جانے کی تیاریاں کی جارہی تھیں۔

احمد دائود اولو نے 2014 اور 2016 کے دوران طیب ایردوآن کی صدارت تلے بطور وزیر اعظم فرائض انجام دئیے ہیں۔

انہیں ایردوآن کی داخلی پالیسیوں بالخصوص آزادی اظہار رائے پر لگائی جانے والی پابندیوں پر اعتراضات تھے۔

دائود اوغلو سے قبل آق پارٹی کو چھوڑنے والوں میں علی باباکان شامل ہیں جو کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔