.

واشنگٹن کی لبنان میں حزب اللہ کے حلیفوں پر پابندیاں عائد کرنے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے معاون ڈیوڈ شنکر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن لبنان میں حزب اللہ کے حلیفوں پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ یہ بیان لبنان کے "جمّال ٹرسٹ بینک" پر امریکی پابندیاں لگائے جانے کے دو ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔

ڈیوڈ شنکر نے جمعرات کے روز لبنانی ٹیلی وژن چینل LBC انٹرنیشنل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ مستقبل میں ہم پابندیوں کے ضمن میں فرقے اور مذہب سے قطع نظر ایسے نئے افراد کے ناموں کا اعلان کریں گے جو حزب اللہ تنظیم کی مدد کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ لبنانی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے 13 ارکان کا بلاک ہے جب کہ حکومت میں اس کے 3 وزراء شامل ہیں۔ حزب اللہ لبنانی صدر میشیل عون اور ان کی جماعت "فری نیشنل گروپ" کی حلیف ہے۔ اسی طرح وہ پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کی شیعہ جماعت امل موومنٹ کی بھی اتحادی ہے۔

امریکا نے ایران نواز حزب اللہ کو 1997 میں دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔ حزب اللہ اس وقت شام میں بشار الاسد کی حکومت کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے حزب اللہ پر امریکی پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ ماہ 29 اگست کو امریکی وزارت خزانہ نے حزب اللہ کو مالی خدمات پیش کرنے کے الزام میں لبنان کے "جمّال ٹرسٹ بینک" پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی وزیر خزانہ کے معاون اور دہشت گردی کی فنڈنگ کے انسداد اور مالیاتی انٹیلی جنس کے ذمے دار سیگل مینڈلکر کے مطابق جمال ٹرسٹ بینک کو نشانہ بنانے کی وجہ بینک اور اس کی شاخوں کی جانب سے حزب اللہ کی مالی سرگرمیوں کے واسطے خدمات پیش کرنا ہے۔

جمعرات کے روز ڈیوڈ شنکر نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ امریکی اقدام میں کسی مخصوص فرقے کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ "حزب اللہ لبنان کے مالیاتی نظام سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے اور قانون ہمیں پابند کرتا ہے کہ ان بینکوں کا تعین کریں"۔