.

نیوزی لینڈ: ہتھیاروں سے متعلق قوانین میں مزید سختی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیوزی لینڈ میں جمعے کے روز ایک نئے قانون کو متعارف کرایا گیا ہے جس کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ آتشی ہتھیار کا قبضہ صرف قانون کا احترام کرنے والوں تک محدود رہے۔ یہ پیش رفت کرائسٹ چرچ شہر میں دو مساجد پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے چھ ماہ بعد سامنے آئی ہے۔ رواں سال 15 مارچ کو ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 51 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

سفید فاموں کی برتری کے نظریے کے حامی شخص کے حملے کے بعد نیوزی لینڈ میں ہتھیاروں سے متعلق قوانین میں واضح سختی دیکھنے میں آئی۔

حکومت نے حملہ آور کی جانب سے استعمال کیے جانے والے آتشی ہتھیار کی نوعیت کے ہتھیاروں کو ممنوع قرار دیا۔ تاہم بعد ازاں اس کو ناکافی شمار کیا گیا۔

کیوی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے جمعے کے روز کرائسٹ چرچ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہتھیار قبضے میں رکھنا ایک خاصیت ہے، یہ کوئی حق نہیں، اس کا مطلب ہوا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی کہ صرف ان پُر امن شہریوں کو آتشی ہتھیار رکھنے اور استعمال کرنے کا لائسنس دیا جائے جو قانون کا احترام کرتے ہیں"۔

نئے قانون کے مطابق ملک میں قانونی صورت میں ہتھیاروں کے مالکان کا قومی ریکارڈ تشکیل دیا جائے گا۔ قانون کے تحت ان افراد کو جیل کی سزا کا سامنا ہو گا جو لائسنس نہ رکھنے والوں کو ہتھیار پیش کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہتھیاروں کی درآمد اور فروخت کی شرائط کو بھی سخت کیا جا رہا ہے۔

پولیس کو اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ آیا لائسنس طلب کرنے والے افراد ہتھیار رکھنے کے لیے مطلوبہ صفات حامل ہیں یا نہیں۔ لہذا پولیس مبینہ طور پر شدت پسند ظاہر ہونے والوں، کسی پرتشدد جرم میں سزا پانے والوں اور یا پھر نفسیاتی مسائل کا شکار افراد کو انکار کر سکتی ہے۔ خود کشی کی کوشش کے مرتکب افراد کو بھی ہتھیاروں کا لائسنس جاری کرنے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔

مذکورہ قومی ریکارڈ کی تشکیل پانچ برسوں کے اندر عمل میں آئے گی۔ اس میں ملک میں موجود 12 لاکھ ہتھیاروں کے حوالے سے معلومات شامل ہوں گی۔

نیوزی لینڈ کی مجموعی آبادی 50 لاکھ ہے۔

نیوزی لینڈ میں پولیس کے وزیر اسٹیورٹ ناش نے واضح کیا کہ اسلحے سے متعلق موجودہ ایکٹ 1983 کا ہے اور اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔