.

پہلے صدارتی انتخابات ، پھرکوئی امن معاہدہ : افغان حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان حکومت اس ماہ کے آخرمیں انتخابات کے انعقاد کے بعد طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ امن کے قیام پر غور کرے گی۔

یہ بات افغان صدراشرف غنی کے ترجمان صدق صدیقی نے ہفتے کے روز ایک نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے کہا’’ کوئی بھی چیز صدارتی انتخابات کے انعقاد کی راہ میں حائل نہیں ہوگی۔‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’طالبان کے ساتھ امن معاہدہ 28 ستمبر کو شیڈول کے مطابق صدارتی انتخابات کے انعقاد کے بعد ہی ہوسکتا ہے اور ان انتخابات کے بغیر امن کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہوسکتی۔‘‘

صدق صدیقی نے اپنے تئیں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ انتخابات کے انعقاد سے قبل ملک میں سکیورٹی کی صورت حال کی بہتری کے لیے بڑی تبدیلی رونما ہوگی اور مزید تشدد سے متعلق خدشات کو دور کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ طالبان نے افغانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ مراکز پر نہ آئیں ، ورنہ انھیں حملوں میں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔طالبان افغان حکومت کو امریکا کی آلہ کار اور کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں اور وہ اس کے ساتھ ماضی میں براہ راست مذاکرات سے انکار کرچکے ہیں۔

گذشتہ ایک عرصے سے طالبان کے افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکا کے ساتھ امن مذاکرات جاری تھے۔ فریقین ایک امن سمجھوتا طے پانے کے قریب پہنچ چکے تھے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کابل میں بم دھماکے کے بعد اچانک طالبان سے مذاکراتی عمل منقطع کردیا تھا۔اس کے بعد طالبان کے ایک وفد نے روس کا دورہ کیا ہے۔

افغان صدر کے ترجمان کا اس پر کہنا ہے کہ طالبان کو اپنی کارستانیوں کی وجہ سے سیاسی ناکامی کا سامنا ہے۔انھیں غیر ملکی طاقتوں کے بجائے افغان حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے چاہییں۔

طالبان کی مذاکراتی ٹیم نے جمعہ کو ماسکو میں صدر ولادی میر پوتین کے افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی ضمیر کابلوف سے مشاورت کی تھی۔روس کی خبررساں ایجنسی انٹرفیکس نے وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ ملاقات میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے اور طالبان نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

افغان وفد کی قیادت ملّا شیر محمد ستنکزئی کررہے تھے۔ ان کی مذاکراتی ٹیم کا امریکا سے مذاکرات منقطع ہونے کے بعد پہلا غیرملکی دورہ تھا۔روس نے اس سے پہلے اس سال کے اوائل میں طالبان اور افغانستان کی سرکردہ سیاسی شخصیات کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی لیکن ان میں صدر اشرف غنی کی حکومت کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

اب ان کے ترجمان صدق صدیقی کا کہنا ہے کہ افغان حکومت نے فی الوقت اپنی امن کوششیں معطل کردی ہیں اور انتخابات کے بعد امن عمل پر پیش رفت ان کی ترجیح ہوگی۔

تشدد کے واقعات

دریں اثناء افغانستان میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور مشرقی صوبے کپیسا میں ایک بم دھماکے میں تین شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔افغان وزارت دفاع کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق بم دھماکا والی بال کے ایک میچ کے دوران میں ہوا ہے اور اس میں دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

جنوبی صوبہ قندھار میں دو پولیس اہلکاروں نے ایک چیک پوائنٹ پر فائرنگ کرکے اپنے ہی نو ساتھی افسروں کو ہلاک کردیا ہے۔افغان حکام کے مطابق ضلع شاہ ولی کوٹ میں جمعہ کی شب پولیس اہلکاروں پر یہ حملہ کیا گیا تھا اور اس کے بعد دونوں حملہ آور جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے اس ’’اندرونی حملے‘‘ کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔