.

افغانستان میں بدامنی کا راج، روزانہ 300 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو رہے ہیں: حکمت یار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے سابق وزیراعظم گل بدین حکمت یار نے ملک میں امن وامان کی ابتر صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال روز بروز بدتر ہوتی جارہی ہے اور افغانستان میں روزانہ 300 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو رہے ہیں۔

انہوں نے دارالحکومت کابل میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ملک میں بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ انتظامیہ ملک میں جاری بحران کا حل تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ہر روز ملک میں فوج اور پولیس کے 300 سیکیورٹی اہلکار لقمہ اجل بن رہے ہیں لیکن حکومت اب بھی امن مذاکرات کو روکنے کے لیے کوشاں ہے۔

گل بدین حکمت یار نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت جمہوری استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے قیام امن کی ہر تحریک یا نعرے کو روکنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے افغان عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے ملک کو اس صورتحال سے بچانے کے لیے کام کریں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ صرف افغان عوام ہی اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دارالحکومت کابل میں چند روز قبل ہونے والے ایک حملے پر طالبان کے ساتھ امن مذاکرات روکنے کا اعلان کیا تھا۔ اس حملے میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔

افغانستان کے صدارتی انتخابات 28 ستمبر کو ہونے والے ہیں جن میں 18 امیدوار حصہ لیں گے۔ سرکردہ صدارتی امیدواروں میں سب سے اہم صدر محمد اشرف غنی ، چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبد اللہ ، حزب اسلامی کے رہ نما سابق وزیر اعظم گلبدین حکمت یار اور قومی سلامتی کےسابق مشیر محمد حنیف اتمر شامل ہیں۔