.

امیرِ کویت اور فلسطینی صدرکی شاہ سلمان سےفون پر گفتگو، ڈرون حملوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امیرِ کویت شیخ صباح الاحمد الصباح اور فلسطینی صدر محمود عباس نے اتوار کے روز سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔دونوں رہ نماؤں نے سعودی آرامکو کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

امیرِ کویت نے شاہ سلمان سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے ملک کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ وہ مملکت کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی شاہ سلمان سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔

فلسطینی خبررساں ایجنسی وفا کے مطابق صدر محمود عباس نے شاہ سلمان کا تمام بین الاقوامی فورموں پر فلسطین اور فلسطینی نصب العین کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔انھوں نے جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اتوار کو غیرمعمولی اجلاس طلب کرنے پر بھی سعودی فرماں روا کا شکریہ ادا کیا۔اس اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ اقدامات کے مضمرات پر غور کیا گیا ہے۔

شاہ سلمان نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب کی جانب سے فلسطینی عوام اور فلسطینی نصب العین کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ سعودی عرب 1967ء کی جنگ سے قبل کی سرحدوں میں غربِ اردن اور غزہ کی پٹی کے علاقوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔

سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں ہفتے کو علی الصباح آرامکو کی تیل کی دو تنصیبات کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں خام تیل کی بہم رسانی عارضی طور پر معطل ہوگئی ہے اور ایک تخمینے کے مطابق ان حملوں سے ستاون لاکھ بیرل خام تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔یہ آرامکو کی کل پیداوار کا پچاس فی صد ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس سمیت متعدد عالمی رہ نماؤں نے ان ڈرون حملوں کی مذمت کی ہے اور مختلف ملکوں کی جانب سے مذمتی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔امریکا نے ایران پر ان حملوں کا الزام عاید کیا ہے لیکن ایران نے اس کی تردید کی ہے۔