.

سعودی عرب کا حملوں کے بعد تیل سپلائی میں ہونے والی کمی کو ذخائر سے پورا کرنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے بڑی تیل کمپنی آرامکو کی دو تنصیبات پر حملوں کے بعد رسد میں ہونے والی کمی کو اپنے ذخائر سے پورا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ا س کے صارفین کو تیل کی سپلائی میں کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔

سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں ہفتے کو علی الصباح آرامکو کی دو تنصیبات پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں خام تیل کی بہم رسانی عارضی طور پر معطل ہوگئی ہے اور ایک تخمینے کے مطابق ستاون لاکھ بیرل خام تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔یہ آرامکو کی کل پیداوار کا پچاس فی صد ہے۔

سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے اتوار کو ایک بیان میں اس امر کی تصدیق کی ہے کہ حملوں سے گیس کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے اور گیس کی یومیہ قریباً دو ارب مکعب فٹ پیدوار رُک گئی ہے۔

البتہ ان کا کہنا ہے کہ ان ڈرون حملوں سے بجلی اور پانی کی سپلائی پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے اور اندرون ملک مارکیٹ میں تیل اور گیس کی سپلائی بھی متاثر نہیں ہوئی ہے۔

امریکا کی توانائی اطلاعاتی انتظامیہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اگست میں سعودی عرب کی تیل کی یومیہ پیداوار ساڑھے اٹھانوے لاکھ بیرل تھی۔

آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او) کا کہنا ہے کہ کمپنی اس وقت حملوں کے نتیجے میں عارضی بندش سے پیداوار میں ہونے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔اس ضمن میں آیندہ اڑتالیس گھنٹے میں تازہ صورت حال سے آگاہ کیا جائے گا۔

سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کے بعد بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے واضح کیا تھا کہ مارکیٹ میں وافر مقدار میں تیل موجود ہے۔امریکا میں قائم ایک فرم ہیجے رسک مینیجمنٹ کے ایک سینیر تجزیہ کار جومک مونیجل نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسے حملوں کو مارکیٹ میں زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تھا لیکن آج بقیق میں آرامکو کے اہم انفرااسٹرکچر پر حملے کو نظرانداز کرنا مشکل ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور انفرااسٹرکچر پر حملے کو عالمی سطح پر رسد کے لیے اہم سمجھا جارہا ہے اور اب مارکیٹ میں زاید رسد کی تھیوری کی جانچ کی جاسکے گی۔تاہم سعودی آرامکو نے العربیہ کے رابطہ کرنے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔