.

صومالیہ میں قطری پیسے کے استعمال کے پس پردہ کیا مقاصد ہیں؟

سابق صومالی عہدیدارنے قطری مداخلت کی حقیقت کھول دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک صومالیہ میں قطری مداخلت اور وہاں کی انتہا پسند تنظیموں کو رقوم، سیاسی اور دیگر ذرائع سے امداد کی فراہمی کوئی نئی بات نہیں۔ اسی حوالے سے صومالی حکومت کے ایک سابق عہدیدار نے صومالیہ میں مداخلت اور قطر کی طرف سے دہشت گردوں تک رقوم کی منتقلی کے حوالے سے لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق صومالی ڈپٹی انٹیلی جنس چیف جنرل عبداللہ عبداللہ نے بتایا کہ قطر ان کے ملک کو کس طرح متاثر کرتا ہے اور خطے میں اپنے مفادات کے لیے اپنے اینجنٹوں کو استعمال کرتا ہے۔

خیال رہے کہ صومالی انٹیلی جنس سروس کے نائب سربراہ جنرل عبد اللہ عبد اللہ کو صدر نے قطر کی مداخلت پر معزول کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ صومالیہ میں دہشت گرد تنظیموں کے ابھرنے اور قطر کا نام مترادف اور ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہوچکے ہیں۔ قطری تنظیموں مقامی تنظیموں کو مالی اور ابلاغی مدد کے ساتھ دیگر سہولیات فراہم کیں جنہوں نے صومالیہ میں اپنے سیاسی اور عسکری عزائم کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ قطر نے بھی سنہ 2011 میں کالعدم قرار دی گئی اسلامی دہشت گرد جماعت کو سیاسی مدد فراہم کی۔ یہ وہی گروپ ہے جو بعد میں صومالیہ میں 'تحریک الشباب' میں تبدیل ہوگیا۔

انہوں نے مزید کہا: "صومالیہ میں تین صدارتی انتخابات میں قطر نے مداخلت کی اور صومالیہ میں اپنے اتحادیوں اور ایجنٹوں کو صومالیہ کے عوام پر مسلط کرنے کے ساتھ صومالیہ اور قرن افریقہ میں سیاسی مداخلت کے لیے رقم فراہم کی۔ قطر کی طرف سے فراہم کردہ رقم سے صومالیہ میں تین بار حکومتوں کا تختہ الٹا گیا۔

انہوں نے کہا کہ "قطر کی مداخلت نے صومالی سیاست کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔ ملک کو دہشت گرد تنظیموں کے اکھاڑے میں تبدیل کردیا ہے دوحا اپنے دہشت گرد ایجنٹوں کو بااثر عہدوں پر لانے میں کامیاب ہوگیا۔

قطر چیریٹی اور حرکت الشباب

جنرل عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ قطری حکومت سے وابستہ دانشور، تنظیمیں ، انجمنیں اور ادارے صومالیہ میں امداد اور انسان دوستی کے تحت کام کرتے ہیں مگر ان کا ایجنڈا مشکوک اور عزائم خطرناک ہیں۔ قطر کی مداخلت کا مقصد قرن افریقا کے دہشت گردوں کی ہمدردیاں اور ان کی معاونت حاصل کرکے خطے میں قطر کے اثرو نفوذ میں اضافہ کرنا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ صومالیہ میں مالی مدد کی آڑ میں مداخلت کرنے والی قطری تنظیموں میں قطر چیریٹی سوسائٹی اور قطر ریڈ کریسنٹ سوسائٹی شامل ہیں۔ قطر چیریٹی ایسوسی ایشن کی طرف سے دہشت گرد تحریک الشباب کے ساتھ براہ راست تعاون کی نگرانی کی گئی تو پتا چلا کہ قطری تنظیم الشباب اور اس کے ممبروں کو سامان اور علاج معالجے کی اشیاء بھی فراہم کررہی ہے۔

انٹلی جنس سروس کا موجودہ سربراہ

جنرل عبداللہ عبداللہ نے بتایا کہ قطر صومالیہ میں اپنے من پسند عناصر کواقتدار میں لانے کے لیے اور انہیں اعلیٰ عہدوں پرتعینات کرنے کے لیے غیرمعمولی سیاسی اور مالی اثرو رسوخ استعمال کرتا رہا ہے۔

قطر نے صومالیہ میں اپنے ایک ایجنٹ فہد یاسین حاج طاہر کو انٹیلی جنس کے عہدے پر تعینات کرایا۔ فہد یاسین صومالیہ دہشت گرد تنظیموں اور میڈیا کی حمایت کے حصول کے لیے ان کی مالی اعانت میں پیش پیش رہا ہے۔ اس نے قطری حمایت یافتہ لوگوں کے نظریات کی تشہیر اور پروپیگنڈے صومالیہ میں پھیلانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ فہد یاسین صومالیہ میں'الجزیرہ' چینل کا نامہ نگار تھا۔ اس نے قطری حکومت کی ہدایت پرمقامی رہ نمائوں "الجزیرہ" کے پروگراموں کے لیے انٹرویو کرائے۔ انہیں موقع دیا کہ وہ چینل کے ذریعے میں نوجوانوں میں انتہا پسندانہ نظریات کی مارکیٹنگ کریں۔ ملک کی مالی اعانت سے چلنے والے میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعہ ان خیالات کی تشہیر کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ فہد یاسین اب بھی صومالیہ میں میڈیا پلیٹ فارمز کا ایک سلسلہ چلاتے ہیں جو قطر کی حمایت اور مالی اعانت سے خطے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی پھیلانے میں معاون ہے۔

سیکیورٹی اینڈ انٹلی جنس سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے سے برخاستگی کے بارے میں ، جنرل عبد اللہ عبد اللہ نے انکشاف کیا کہ 1970 میں ایجنسی کے قیام کے بعد سے اب تک وہ دوسرے عہدیدار ہیں جنہوں نے چھ سال تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں۔

قطر اور افریقی بندرگاہوں کا تحفظ

ھیبو بندرگاہ میں قطری سرمایہ کاری کے محرکات کے بارے میں سابق ڈپٹی انٹیلی جنس چیف نے کہا کہ 'ھیبو' تزویراتی اہمیت کا حامل شہر اور بندرگاہ ہے جو وسطی صومالیہ میں واقع ہونے کے ساتھ صومالیہ اور ایتھوپیا کی سرحد کے قریب ہے۔ یہ بندرگاہ مستقبل میں مشرقی افریقہ کی سب سے اہم بندرگاہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خطہ قدرتی دولت سے مالا مال ہے، مچھلی، تیل اور یورینیم یہاں پر وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ قطر اس اسٹریٹجک ایریا کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے دوحا اس خطے کی دوسری بندرگاہوں بوصاصو کی بندرگاہ اور بربرہ کو بھی اپنے زیراثر لانا چاہتا ہے۔ یہ دونوں بندرگاہیں اس وقت دبئی انٹرنیشنل کمپنی کے پاس ہیں۔