.

سعودی عرب اور روس تیل مارکیٹ میں جامع اتحاد کی تشکیل کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی اخبار "اکانومیکا سیفوڈنیا' نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب تیل کے میدان میں روس کے ساتھ ایک مضبوط ، زیادہ پائیدار اور جامع اتحاد کی تشکیل کے کوشاں ہے۔ دوسری طرف تجزیہ کار دمتری ایڈمیڈوف نے سعودی عرب کو ایک مشکل شراکت دار قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اکثر اپنے مفاد کی تلاش میں رہتاہے مگر اس وقت وہ روسی تعاون کی تلاش میں ہے۔ روس کے مشرق وسطی کے تمام کلیدی اور اہمیت کے حامل بڑے ممالک کے ساتھ بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ معمول کے تعلقات ہیں۔

تجزیہ نگار دمتری ایڈمیڈوف نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ سعودی عرب اور روس کے مابین ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کرنا ممکن ہے۔ سعودی عرب تسلیم کرتا ہے کہ وہ اپنے طور پر تیل کی منڈی کو دوبارہ فعال نہیں بنا سکتا۔ اسے اس میدان میں تیل پیدا کرنے والے دوسرے ملکوں کی تلاش ہے۔حال ہی میں روسی وزیر توانائی الیگزینڈر نوواک نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ عبد العزیز بن سلمان آل سعود سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں رہ نمائوں نے نہ صرف تیل کی قیمتوں پر ہی توجہ مرکوز کی بلکہ صدر پوتین اور سعودی عرب کی قیادت کے مابین سعودی ارامکو کے آئی پی او سے متعلق اجلاس کی تیاریوں پر بھی توجہ دی ہے۔

روسی وزیر توانائی کے الیکذنڈر نوواک نے اپنے نئے سعودی ہم منصب شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان آل سعود سے ملاقات کی تھی۔

اوپیک پلس معاہدے پر عمل درآمد

روسی وزیر توانائی نوواک کے مطابق انھوں نے عالمی منڈیوں اور قیمتوں کی موجودہ صورتحال اور اوپیک + معاہدے کے نفاذ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ اس معاہدے پر گذشتہ برس دسمبر میں دستخط ہوئے تھے۔ اس کے بعد دونوں رہ نمائوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

روسی وزیر کا خیال ہے کہ موجودہ قیمتیں مارکیٹ کی قیمتیں ہیں ، جبکہ ان کا خیال ہے کہ "اوپیک +" معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے کی ضرورت میں ہے۔ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فیچ نے پیش گوئی کی ہے کہ سنہ 2019ء میں تیل کی قیمت 65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی ، جو مشرق وسطی کے اوپیک ممالک کے بہت سے ممالک کے لئے مناسب قدر سمجھی جائے گی۔ لیکن سعودی عرب کا خسارے سے پاک بجٹ 80 ڈالر فی بیرل سے شروع ہوتا ہے۔

ماہر اقتصادیات کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات صرف تیل کی قیمتوں کے بارے میں نہیں تھی ، بلکہ اس ملاقات کا مقصد صدرپوتین اور سعودی عرب کی قیادت کے مابین سعودی ملاقات ملاقات کی تیاری کے بارے میں بھی بات چیت کی گئی۔ سعودی عرب روس کو اپنے تیل کے محفوظ ذخائر تک رسائی کی اجازت دینا چاہتا ہے۔ ارامکو کے 'آئی پی او' کو انٹری ٹکٹ سمجھا جاتا ہے تاہم مستقبل کے منصوبوں اور ان میں شرکت سیاسی معاہدوں پر منحصر ہوگی۔