.

ضرورت پڑنے پر ٹرمپ کی تیل کے محفوظ ذخائر استعمال کرنے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب میں تیل کی دو تنصیبات پر حملے کے سبب ضرورت پڑنے پر تیل کے محفوظ ذخائر استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

اتوار کے روز اپنی ایک ٹویٹ میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ "سعودی عرب میں حملے کے سبب تیل کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے ... ضرورت پڑنے پر محفوظ کیا ہوا تیل استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے اور متعین کردہ مقدار منڈی میں ترسیلات کو اچھی طرح برقرار رکھنے کے لیے کافی ہو گی"۔

ہفتے کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیزسے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ دونوں شخصیات کے درمیان ہونے والی بات چیت میں ہفتے کی صبح 'ارامکو' کی دو تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی صدر نے باور کرایا کہ ان کا ملک سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام میں معاونت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی تیل کی تنصیبات پرحملوں کے امریکی معیشت کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر کی پیش کش کے جواب میں کہا کہ "مملکت اس طرح کی دہشت گردانہ جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیت اور عزم رکھتی ہے"۔

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کی فورسز کے سرکاری ترجمان کرنل ترکی المالکی نے باور کرایا کہ سعودی ارامکو کمپنی کے دو پلانٹس پر دہشت گرد حملوں کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ اس کا مقصد حملوں میں ملوث فریق کا پتہ چلانا ہے۔

المالکی کے مطابق عرب اتحاد کی مشترکہ فورسز کی کمان اس طرح کی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ اقدامات پر عمل درامد جاری رکھے گی۔ اس کا مقصد قومی اثاثوں کا تحفظ ، عالمی توانائی کی سلامتی اور عالمی معیشت کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ کے سیکورٹی ترجمان نے بتایا تھا کہ "ہفتے کی صبح چار بجے ارامکو کمپنی کی انڈسٹریل سیکورٹی کی ٹیموں نے کمپنی کے دو پلانٹس میں لگنے والی آگ بجھانے کا کام شروع کیا۔ مملکت کے ضلع بقیق اور ہجرہ خریص میں واقع ان تنصیبات کو ڈرون طیاروں کے ذرکعے نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں دونوں تنصیبات میں بھڑکی ہوئی آگ پر قابو پا لیا گیا اور اسے پھیلنے سے روک دیا گیا"۔