.

بورس جانسن اورامریکی صدرکا سعودی آرامکوحملوں کے بعد مشترکہ سفارتی ردعمل پرتبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد ’ایک متحدہ سفارتی ردعمل‘ کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کے دفتر نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’دونوں لیڈروں نے (سعودی آرامکو کی تنصیبات پر) حملوں کی مذمت کی ہے اور بین الاقوامی شراکت داروں کی جانب سے ایک مشترکہ سفارتی ردعمل کی ضرورت کے بارے میں بات چیت کی ہے۔انھوں نے ایران کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے اور کہا ہے کہ اس کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانا چاہیے۔‘‘

ادھر الریاض میں سعودی وزارت دفاع اور عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ یہ حملہ یمن سے نہیں کیا گیا تھا۔حوثی ملیشیا گروپ صرف ایران کی پردہ پوشی کررہا ہے۔

انھوں نے ایک نیوزکانفرنس میں حملے میں استعمال کیے گئے ایرانی ساختہ ہتھیار بھی دکھائے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی تیل کی اہم تنصیبات پرڈرون حملوں کا اسپانسر ایران تھا مگر یہ حملے یمن سے نہیں کیے گئے تھے جبکہ ایران نے ایسا ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ پہنچ گئے ہیں۔ وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے آرامکو کی تنصیبات پر ڈرون حملوں سے پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کرنے والے تھے۔

قبل ازیں ایک بیان میں انھوں نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پرحملوں کو ایک جنگی کارروائی قرار دیا ہے۔انھوں نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ یہ ایک ’ایرانی حملہ‘ تھا۔