.

حملے کا نشانہ بننے والی تنصیبات سے تیل کی سپلائی پہلے کی سطح پر بحال : سعودی وزیر توانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کے تین روز کے بعد تیل کی سپلائی مکمل طور پر بحال کردی گئی ہے۔

انھوں نے منگل کےروز ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کے عالمی مارکیٹ پر اثرات مرتب ہوئے ہیں اور جو صارفین سعودی عرب سے تیل نہیں بھی خرید کرتے ، وہ بھی متاثر ہوئے ہیں۔

شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ اکتوبر میں سعودی عرب کی یومیہ پیداوار اٹھانوے لاکھ بیرل ہوجائے گی۔انھوں نے عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ عالمی معیشت اور توانائی کی مارکیٹ پر حملہ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اس ماہ کے دوران میں اپنے صارفین کو تیل کی مکمل سپلائی مہیا کرے گا اور ستمبر کے اختتام تک تیل کی یومیہ پیداوار ایک کروڑ دس لاکھ بیرل تک پہنچ جائے گی۔

اس موقع پر آرامکو کے چیئرمین یاسر الرمیان نے کہا کہ ان حملوں سے کمپنی کے حصص کی عالمی اسٹاک مارکیٹ میں پہلی مرتبہ فروخت کے لیے تیاریاں متاثر نہیں ہوں گی۔

آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امین الناصر نے بتایا کہ حملے کے صرف سات گھنٹے کے بعد کمپنی نے آگ پر قابو پا لیا تھا۔

گذشتہ ہفتے کوعلی الصباح سعودی آرامکو کی بقیق اور خریص ہجرۃ میں واقع دو تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد وزیر توانائی کی یہ پہلی نیوزکانفرنس ہے۔ان حملوں سے سعودی عرب کی ستاون لاکھ بیرل یومیہ تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تھی اور دو ارب مکعب فٹ گیس کی پیداوار بھی منقطع ہوگئی تھی۔ان حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں پندرہ فی صد تک اضافہ ہوگیا ہے۔

یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن سعودی عرب اور امریکا نے ایران پر اس حملے کا الزام عاید کیا ہے۔

امریکا کے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے مختلف رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی آرامکو کی تنصیبات پر یمن نہیں بلکہ ایران کی جنوبی سمت سے ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو سیدھے سبھاؤ ایران ہی کو اس حملے کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

عرب اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بھی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی آرامکو کی تنصیبات پر ایرانی ساختہ ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا۔