.

روسی صدر پوتین کا سعودی ولی عہد سے آرامکو تنصیبات پر حملے پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے بدھ کے روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور ان سے اس اختتام ہفتہ پر سعودی آرامکو کی تیل کی دو تنصیبات پر ڈرون حملوں سے پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

کریملن کے ایک بیان کے مطابق صدر پوتین اور سعودی ولی عہد نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام کے لیے دوطرفہ تعاون کے عزم کا اظہار کیا ہے۔روسی صدر نے آرامکو کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات پر زور دیا ہے۔

توقع ہے کہ صدر پوتین اس سال کے آخر میں سعودی عرب کا سرکاری دورہ کریں گے۔سعودی عرب کو روایتی طور پر امریکا کا اتحادی سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے روس کے ساتھ بھی اچھے تعلقات استوار ہیں اور دونوں ملکوں نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیاہے۔

روس کے براہِ راست سرمایہ کاری فنڈ کے سربراہ نے ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والی تنصیبات سے تیل کی پیداوار کی بحالی پر سعودی آرامکو کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ روسی کمپنیوں نے آرامکو کو نقصانات کے ازالے کے لیے مدد کی پیش کش کی ہے۔