.

سوڈان کے ایک گاؤں کے لوگوں نے امدادی وفد کا اکرام کس طرح کیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نے سوڈان کی ریاست نیل ابیض میں واقع ایک گاؤں کی حالت کو تصویر کے ذریعے محفوظ کر لیا۔ یہ گاؤں طوفانی بارشوں کے بعد سیلابی ریلے کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔

تصویر میں ایک ننگے پاؤں سوڈانی جوان اپنے کاندھوں پر ایک دنبہ لے کر ہیلی کاپٹر میں رکھنے جا رہا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر گاؤں کے لوگوں کے لیے امداد لے کر آیا تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس قدرتی آفت کا سامنا کرتے ہوئے بھی اس علاقے کے لوگ مہمانوں کے اکرام سے متعلق اپنی روایات کو نہیں بُھولے۔

مذکورہ نوجوان کے پاس چند دنبوں کے سوا کچھ نہیں تھا جو سیلابی ریلے کے باوجود محفوظ رہے۔ اس طرح یہ نوجوان ان بہت سے عوامی گیتوں کی عملی تصویر بن گیا جن میں پُر آشوب اور مصیبت کی گھڑی میں بھی ننگے پاؤں رہتے ہوئے مہمان کے اکرام کرنے والی کی مدح سرائی کی گئی ہے۔

ان علاقوں میں مقامی لوگوں کی روایت ہے کہ وہ مہمان کے اکرام میں دنبہ ذبح کرتے ہیں لیکن اگر مہمان جلدی میں ہو تو وہ اس دنبے کو اس کے گھر تک پہنچا دیتے ہیں۔ البتہ اس مرتبہ آنے والے مہمان ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر آئے تھے۔ اس کے باوجود مقامی رواج میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور یہ دنبہ ہیلی کاپٹر میں ان افراد کا ساتھی بن گیا جو برسوں تک علاقے کے لوگوں کی سخاوت اور مہمان نوازی کی یاد دلاتا رہے گا۔

مذکورہ گاؤں کے دیہاتیوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذریعے ریاست اور دنیا کو پیغام دیا کہ "آج ہم غرق ہو رہے ہیں ، اگر ہماری مدد نہ کی گئی تو کل بیماری آ جائے گی اور پھر بھی مدد نہ کی گی تو اس کے بعد بھوک کا دور دورہ ہو گا"۔

بالائی اراضی اور گہری وادیوں سے آنے والے سیلابی ریلوں نے گاؤں کے لوگوں کی زرعی اراضی کو برباد کر ڈالا۔ اس کے نتیجے میں یہ لوگ بھوک کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ اس کے باوجود گاؤں کے نوجوان نے اپنا ایک دنبہ حکومتی امدادی وفد کو عطیہ کر دیا جب کہ وہ خود اس کا زیادہ محتاج تھا۔ بہر کیف اس نوجوان کے جذبے کو بیان کرنے کے لیے موزوں الفاظ کی تلاش ایک دشوار امر ہے۔