.

یمنی حوثیوں کی متحدہ عرب امارات میں اہداف کو حملوں میں نشانہ بنانے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے حوثی شیعہ باغیوں نے متحدہ عرب امارات میں دسیوں اہداف کو حملوں میں نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ اس نے ان اہداف کی نشان دہی کرلی ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے فوجی ترجمان نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے پاس اب نئے بغیر پائیلٹ طیارے ( ڈرونز)موجود ہیں۔ وہ ’عام اور جیٹ انجنوں‘ سے لیس ہیں اور سعودی عرب کے دور دراز علاقوں میں واقع اہداف تک پہنچ سکتے ہیں۔

حوثی باغیوں نے گذشتہ ہفتے کے روز سعودی آرامکو کی دو تنصیبات پر ڈرون حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن سعودی عرب ، عرب اتحاد اور امریکا نے ان کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔

عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے قبل ازیں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کا اسپانسر ایران تھا مگر یہ حملے یمن سے نہیں کیے گئے تھے جبکہ ایران نے ایسا ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

کرنل ترکی المالکی نے سعودی آرامکو کی اہم تنصیب بقیق پر حملے کو عالمی معیشت پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ تیل تنصیبات پر حملوں کے لیے پچیس ڈرونز اور کروز میزائل استعمال کیے گئے تھے اورڈرون شمال سے جنوب کی سمت آئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ بقیق اور ہجرۃ خریص آئیل فیلڈ پر حملے چودہ مئی کو عفیف اور دوادمی میں واقع تنصیبات پر حملوں کی توسیع ہیں۔انھوں نے صحافیوں کوحالیہ حملوں میں استعمال کیے گئے ہتھیاروں کے ٹکڑے بھی دکھائے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیرعہدہ دار کے مطابق ایران نے بقیق اور ہجرۃ خریص پرحملوں کے لیے قریباً ایک درجن کروز میزائل داغے تھے اور بیس سے زیادہ ڈرونز چھوڑے تھے۔ان کے ٹکرانے سے ان دونوں تنصیبات میں آگ لگ گئی تھی۔اس کے نتیجے میں آرامکو کی تیل کی پیداوار میں نصف تک کمی واقع ہوگئی تھی۔کمپنی نے گذشتہ چار روز کے دوران میں بقیق سے مصفا تیل کی پیداوار کو حملوں سے پہلے کی سطح پر بحال کردیا ہے۔