.

لمحہ موجود مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن موڑ ہے: اسٹیون کک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی دانشور اسٹیون کک نے موجودہ حالات کو مشرق وسطیٰ کے مستقبل کی سمت کے تعین کے حوالے سے فیصلہ کن قرا ردیا ہے۔

'فارن پالیسی میگزین' میں شائع اپنے ایک مضمون میں مسٹر کُک نے "خلیج میں پیش آنے والے خطرناک واقعات" کو "فیصلہ کن" قرار دیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ "اگر امریکا سعودی عرب کے تیل کےلیے لڑائی پر اکتفا کرتا ہے تو اسے پورے خطے کے لیے لڑائی سمجھا جائے گا''۔

"دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سے تین بنیادی مفادات نے مشرق وسطی کے بارے میں امریکی پالیسی کی تشکیل کی ہے۔ توانائی اور اسرائیل دو اہم مفادات ہیں۔ امریکا نے اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کی کہ کوئی بھی ملک یا ممالک کا گروپ امریکی طاقت کو اس طرح چیلنج نہ کرسکے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ امریکا کے اسرائیل کے ساتھ خصوصی تعلقات قائم ہیں مگر خطے میں امریکی موجودگی کا سب سے بڑا سبب خطے میں تیل کے وسائل ہیں۔ گوکہ خطے میں امریکی موجودگی کے دیگر اسباب میں اسٹریٹجک ، تاریخی ، اخلاقی اور سیاسی وجوہات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ تیل اور توانائی کے وسائل نے امریکا کو اس خطے پرتوجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کیا۔

ایلیٹ کلاس

امریکی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اس لمحے - سعودی عرب کی خام تیل کی پروسیسنگ کی سب سے اہم تنصیبات پر حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے کیا ردعمل ظاہر کیا جائے گا ، اس سے یہ اشارہ ملے گا کہ کیا امریکی اشرافیہ اب بھی توانائی کے وسائل میں دلچسپی لیتی ہے؟ یا جیسا کہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کیا امریکا واقعی پورے مشرق وسطی سے نکلنے کی راہ پر گامزن ہے۔

"جب ہفتہ کی صبح یہ اطلاع ملی کہ بعتیق اور خریص میں سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی۔ خارجہ پالیسی کے ماہرین میں اس بات میں الجھ گئے کہ یمن میں موجود مسائل کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہرایا جائے اور یمن کے حوثی باغیوں پر ایران کے اثرو نفوذ کی حدود کا تعین کیا جائے۔ یہ سوالات امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی طرف سے ایران پر خصوصی طور پر الزام عائد کرنے اور ان حملوں کے پیچھے ہونے کی قیاس آرائیوں کے ساتھ بڑھ گئے تھے۔ ایران کے خلاف فوجی آپشنز کے حامی پومپیو براہ راست محاذ آرائی سے گریز کرنے اور اس کے ایجنٹوں کو پورے خطے میں اپنی ناگوار حرکتوں پر سزا دینے پر توجہ مرکوز کرنے لگے ہیں۔ ایران پر یہ ٹھوس الزام عاید کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ایجنٹوں کو خطے میں تخریب کاری کےلیے رقم ، ٹیکنالوجی اور اسلحہ فراہم کرنے کی لمبی تاریخ رکھتا ہے اور یہ کوئی حیرت کی بات بھی نہیں۔

امریکی انتظامیہ کے بہت سے دیگر اہلکاروں نے پومپیو سے اتفاق کیا کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پرحملوں میں ایرانی کردار واضح ہے۔ ارامکو حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے تاثر کو اس وقت اور بھی تقویت ملی جب اس امر کی تصدیق ہوئی کہ ان حملوں میں کروز میزائل استعمال کیے گئے تھے۔

اسٹیون کک لکھتے ہیں کہ سنہ 1945ء کے اوائل میں امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ نے سعودی فرمانروا شاہ عبد العزیز سے ملاقات کی۔ "امریکا نے مشرق وسطی سے تیل کی برآمد کو یقینی بنانے کی پالیسی اپنائی۔ 1991ء میں صحرائی طوفان جنگ جیسا کہ صدر جارج ڈبلیو بش نے بھی اس وقت واضح کیا تھا جس کے بعد سعودی عرب میں 54000 امریکیوں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے بعد پھرعراقی صدر صدام حسین کو زبردستی کویت سے بے دخل کر دیا گیا۔ صدام حسین کے خلاف کارروائی اس لیے کی گئی کہ انہوں نے کویت پر چڑھائی کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ کویت کی خطرناک پیش قدمی کے نتیجے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا۔ جب سنہ 1990ء میں عراقی ٹینکوں نے کویت کا رخ کیا تو اس وقت کے امریکی صدر بش نے اعلان کیا تھا کہ کویت کے خلاف کسی قسم کی جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی۔