.

ایردوآن کی جماعت سے مستعفی ارکان پارلیمنٹ "انتقامی کارروائی" کے خوف سے خاموش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے سابق وزیراعظم احمد داؤد اولو ان دنوں ایک سیاسی جماعت تشکیل دینے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اسی جماعت کے ایک رہ نما ایہان سفر اوسٹن کا کہنا ہے کہ "ہم سوچ رہے ہیں کہ کچھ عرصے کے لیے خاموش ہو جائیں" اوسٹن نے رواں ماہ کے اوائل میں داؤد اولو اور دیگر افراد کے ساتھ حکمراں جماعت "جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ" پارٹی سے استعفا دے دیا تھا۔ اس سے قبل پارٹی کی مرکزی قیادت نے اوسٹن کو "انضباطی کمیٹی" کے سامنے پیش کیا تھا تا کہ انہیں داؤد اولو ، پارٹی کے سابق سکریٹری جنرل اور ایک رکن پارلیمنٹ کے ساتھ حتمی طور پر پارٹی سے بے دخل کر دیا جائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کے دوران اوسٹن کی باتوں سے واضح طور پر ظاہر ہو رہا تھا کہ انہیں اپنی سابقہ جماعت کی جانب سے "انتقام" کا خوف ہے ،،، اسی لیے وہ فی الحال "خاموش" رہنے پر اکتفا کر رہے ہیں۔

ترکی کی حکومت کئی برس سے اپنے مخالفین کو "سزا دینے" کی کوششیں کر رہی ہے۔ ان مخالفین میں ملک میں اپوزیشن کی دو مرکزی جماعتوں "ریپبلکن پیپلز پارٹی" اور کردوں کی ہمنوا "ڈیموکریٹک پارٹی" کی قیادت نمایاں ترین ہیں۔

کردوں کی ہمنوا جماعت کے سابق مشترکہ سربراہ صلاح الدین دمیر تاش تین برس سے جیل میں قید ہیں۔ اس دوران ترکی کی عدالتوں نے اپوزیشن کی دیگر شخصیات کے خلاف درجنوں فیصلے جاری کیے۔ اس سلسلے میں آخری فیصلہ استنبول کی ایک عدالت نے ریپبلکن پارٹی کی ایک اہم خاتون رہ نما جاناں کفتناجی کے خلاف جاری کیا جس میں اپوزیشن کی ان خاتون کو 10 برس قید کی سزا سنائی گئی۔

ایسا نظر آ رہا ہے کہ ایردوآن کی پالیسیوں کے نئے مخالفین جنہوں نے حال ہی میں پارٹی سے استعفا دیا ہے ،،، وہ حکومت کی طرف سے انتقامی کارروائی کا نشانہ بننے کے حوالے سے خوف زدہ ہیں۔ اسی طرح جیسا کہ حکومت نے ملک میں اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اپنے مخالفین کے ساتھ کیا۔ واضح رہے کہ حکمراں جماعت نے داؤد اولو کے مستعفی ہونے کو غداری سے تعبیر کیا۔

حکمراں جماعت ان "رازوں" کے سبب خوف رکھتی ہے جن پر سے داؤد اولو پردہ اٹھا سکتے ہیں۔ اولو کئی برس سے ایردوآن کے مقرب تھے۔ بعد ازاں رواں سال انتخابات کے دوران استنبول کی میئر شپ سے دو مرتبہ ہاتھ دھونے کے بعد اولو اور ایردوآن کے درمیان شدید نوعیت کے اختلافات سامنے آئے۔

حکومت کی جانب سے "انتقامی کارروائی" کے خوف کے باوجود "نئی اپوزیشن شخصیات" خاموشی کے ساتھ ایک سیاسی جماعت تشکیل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں جو ان کی سابقہ جماعت کی حرف ہو گی۔ ان چیلنجوں کے باوجود مذکورہ شخصیات اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ ریاستی فیصلوں کا اختیار دوبارہ پارلیمنٹ کو لوٹایا جائے۔ اس سے قبل ایردوآن نے صدر جمہوریہ کے اختیارات میں توسیع کر دی تھی۔

ان اپوزیشن شخصیات نے عملی طور پر استنبول میں اپنے دفاتر قائم کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ترکی کے کُل 81 صوبوں میں سے 70 صوبوں میں نئی جماعت اپنی موجودگی کو یقینی بنائے گی۔

ایردوآن کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے سابق سکریٹری جنرل اور داؤد اولو کے ساتھ مستعفی ہونے والے سلجوک اوزجاگ نے ترک میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ "وہ اپنی نئی جماعت کی تشکیل کا اعلان 25 نومبر کو کریں گے"۔

نئی جماعت کا اعلان ایردوآن کی پارٹی کے لیے ایک نئی اور "کاری" ضرب ثابت ہو گی۔ بالخصوص جب کہ مذکورہ جماعت کے ساتھ ایک اور پارٹی کی تشکیل بھی سامنے آنے والی ہے جس کی قیادت ترکی کے سابق وزیر اقتصادیات علی بابا جان کریں گے۔

یاد رہے کہ بابا جان نے رواں سال جولائی میں حکمراں جماعت سے استعفی دے دیا تھا۔ انہیں ترکی کے سابق صدر عبداللہ گل کی سپورٹ حاصل ہے۔