.

سعودی حکومت صنعتی شعبے کے غیرملکی ملازمین کی پانچ سال تک فیس ادا کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی کابینہ نے یکم اکتوبر سے صنعتی شعبے میں کام کرنے والے غیرملکی تارکینِ وطن کی پانچ سال تک لازمی فیس ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس فیس کا 2018ء سے غیرملکی ورکروں کی خدمات حاصل کرنے والی کمپنیوں پر اطلاق کیا گیا تھا اور ہر ورک پرمٹ کے لیے اس کی شرح 300 ریال مقرر کی گئی تھی۔2019ء میں یہ فیس بڑھ کر600 ریال ہوگئی ہے اور 2020 ء میں یہ ہر تارک وطن ملازم پر 800 ریال لاگو ہوگی۔

سعودی حکومت نے اس ضابطے کے تحت 2018ء میں مقامی ملازمین سے کم غیرملکی ملازمین کو بھرتی کرنے والی کمپنیوں پر 300 ریال فی کس ٹیکس عاید کیا تھا۔اس ٹیکس کی شرح میں سال بہ سال بتدریج اضافہ ہوگا اور 2020ء میں یہ ٹیکس بڑھ کر700 ریال ہوجائے گا۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق سعودی حکومت اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے ویژن 2030ء پر عمل پیرا ہے۔ایسے میں کابینہ کے اس نئے فیصلے سے سعودی مملکت کو مشرقِ اوسط کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں صنعتی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں مسابقتی فائدہ ہوگا اور باصلاحیت اور ہُنرمند افرادی قوت مملکت میں کام کرنے کی جانب راغب ہوگی۔

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس کے نائب صدر عمر مرسی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’سعودی عرب کو اعلیٰ صلاحیت کے حامل لوگوں کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور ایسے اقدامات کی ضرورت ہے کہ لوگ آئیں اور کاروبار کریں۔‘‘

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے فروری میں غیرملکی ورکروں کی فیس کی ادائی میں مشکلات کا شکار ہونے والی کمپنیوں کو یہ رقوم واپس کرنے کی ایک اسکیم کی منظوری دی تھی۔ واضح رہے کہ سعودی حکومت نے2017ء میں تارکینِ وطن کے لیے ورک پرمٹ پر نئی فیسوں کو لاگو کیا تھا۔سعودی عرب کے وزیر محنت کے مطابق اس اسکیم کے تحت جو کمپنیاں اضافہ شدہ فیس ادا کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتی تھیں، ان کی بھی فیس معاف کردی گئی ہے۔

سعودی عرب نے اسی ماہ کے اوائل میں وزارتِ توانائی ، صنعت اور معدنی وسائل کو دو وزارتوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب توانائی کو الگ سے وزارت بنا دیا گیا ہے اور صنعتوں اور معدنی وسائل کی اس سے الگ ایک مکمل وزارت بنا دی گئی ہے۔اس اقدام کا مقصد تیل کی آمدن پر انحصار کم کرنے کے لیے معیشت کو آزاد بنانا اور مینوفیکچرنگ کے شعبہ کو متنوع بنانا ہے۔