.

شاہ سلمان کے ہاتھ سے جدہ میں شاہ عبدالعزیزبین الاقوامی ہوائی اڈے پر نئے ٹرمینل کا افتتاح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جدہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک نئے ٹرمینل کا افتتاح کیا ہے۔

اس نئے ٹرمینل کا کل رقبہ 810,000 مربع میٹر ہے اور یہاں سالانہ تین کروڑ مسافروں کی آمد ورفت کی گنجائش ہوگی۔شاہ سلمان کو منصوبے کے افتتاح کے موقع پر نئے ہوائی اڈے کی بنیادی خصوصیات اور سعودی عرب میں شہری ہوابازی کے بارے میں ایک تصویری پریزینٹیشن دی گئی ۔اس موقع پر سعودی عرب کے ٹرانسپورٹ کے وزیر اور شہری ہوابازی کی جنرل اتھارٹی کے چئرمین ڈاکٹر نبیل بن محمد العمودی بھی موجود تھے۔

انھوں نے بریفنگ میں بتایا کہ مملکت میں شہری ہوابازی کے شعبے نے نمایاں ترقی کی ہے اور اس کی تخلیقی ترقی نے مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی)کی 4.6 فی صد شرح میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔

جدہ کا شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈا سعودی عرب کا سب سے مصروف ائیر پورٹ ہے اور مملکت میں آنے اور یہاں سے بیرون ملک روانہ ہونے والے 36 فی صد مسافر اسی ہوائی اڈے سے سفر کرتے ہیں۔ یہ خطے میں بھی سب سے بڑا ہوائی اڈا ہے۔حج اور عمرہ کے لیے حجاز مقدس جانے والے بیشتر زائرین بھی اسی ہوائی اڈے کو استعمال کرتے ہیں۔

بین الاقوامی فضائی ٹرانسپورٹ تنظیم ( ایاٹا) کے مطابق سعودی عرب میں اندرون اور بیرون ملک پروازوں کے لیے ہوائی اڈوں کی تعداد دگنا ہوچکی ہے اور ان کی تعداد 28 ہے۔سعودی عرب اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے سیاحت کے شعبے کو بھی ترقی دے رہا ہے۔اب عازمین حج اور معتمرین کے علاوہ تاریخی شہروں اور آثار کی سیاحت کے لیے بھی دوسرے ممالک سے لوگ بڑی تعداد میں آرہے ہیں۔

اس کا اندازہ ان اعداد وشمار سے کیا جاسکتا ہے کہ 2010ء میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں سے سفر کرنے والے تمام مسافروں کی تعداد چار کروڑ ستر لاکھ سالانہ تھی۔ 2010ء میں یہ تعداد بڑھ کر سات کروڑ چالیس لاکھ ہوگئی تھی اور 2018ء میں یہ تعداد بڑھ کر دس کروڑ ہوچکی سالانہ تھی۔

مارچ کے اوائل میں سعودی کابینہ نے مملکت میں کھیلوں کے مقابلوں اور کنسرٹس کو دیکھنے کے لیے آنے والے غیرملکیوں کو برقی سیاحتی ویزوں کے اجراء کی منظوری دی تھی۔حکام کے مطابق اس فیصلے کے تحت ویزا کے لیے درخواست کو چند منٹ میں آن لائن مکمل کیا جاسکتا ہے اور اس مقصد کے لیے کسی سفارت خانے یا قونصل خانے میں بھی جانے کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی اطلاعات منظرعام پر آچکی ہیں کہ سعودی عرب صرف کسی ایک خاص پروگرام کے لیے ویزے کے اجراء کے بجائے عمومی سیاحتی ویزے جاری کرنے پرغور کررہا ہے۔اس کا مقصد سیاحتی شعبے کی ترقی اور یونیسکو کے قراردیے گئے تاریخی آثار کی سیر وسیاحت کے لیے غیرملکی سیاحوں کو ترغیب دینا اور انھیں سہولتیں مہیا کرنا ہے۔

سعودی حکومت نے مختلف سیاحتی منصوبے بھی شروع کررکھے ہیں۔ ان میں تفریح ، کھیلوں اور فنون کی سہولتیں مہیا کرنے کے القدیہ میں ایک بڑا منصوبہ جاری ہے۔ یہ دارالحکومت الریاض سے کوئی ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔حکام کو توقع ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد یہاں سالانہ قریباً پندرہ لاکھ زائرین آئیں گے ۔اس کا پہلا مرحلہ 2022ء میں مکمل ہوگا۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپریل میں صحرا میں واقع قدیم تاریخی شہر العلا میں سیاحتی منصوبوں کا افتتاح کیا تھا۔ان منصوبوں کی تکمیل سے جی ڈی پی میں سالانہ 32 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا۔العلا کے شاہی کمیشن کے مطابق ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد بیس لاکھ سے زیادہ زائرین سالانہ سیروسیاحت کے لیے آئیں گے۔نیز2035ء تک اڑتیس لاکھ نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔