.

امریکا نے شام میں روسی فورسز کو جیٹ ایندھن مہیا کرنے والے اسمگلروں پر پابندیاں عاید کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شام میں روسی فورسز کو جیٹ ایندھن مہیا کرنے والے اسمگلروں اور ایک روسی کمپنی پر نئی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ تین افراد ، پانچ بحری جہاز اور ماسکو میں قائم ایک فرنٹ کمپنی شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کی حمایت میں لڑنے والی روسی فورسز کو رقوم اور ایندھن مہیا کرنے کے ذمے دار ہیں۔

محکمہ خزانہ کے انڈر سیکریٹری برائے انسداد دہشت گردی سیگل مینڈلکر نے بیان میں کہا ہے کہ ’’(بشار)الاسد کے استبدادی نظام نے شام کے بے گناہ شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں، ان پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے ہیں اور ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔اس وجہ سے وہ عالمی نظروں میں ہے۔ برسراقتدار رہنے کے لیے اس کا انحصار اس طرح کے غیر قانونی نیٹ ورکس پر ہے۔‘‘

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف بی آئی) کے مطابق ماسکو میں قائم کمپنی میری ٹائم اسسٹنس ایل ایل سی روس کی جہاز راں کمپنی سوفراشت سوفمورٹرانس گروپ کے فرنٹ کے طور پر کام کررہی تھی۔ امریکا نے اس گروپ پرستمبر2016ء میں پابندیاں عاید کردی تھیں۔

سوفراشت کے بلیک لسٹ ہونے کے بعد اس کی جانب سے میری ٹائم اسسٹنس نے کاروبار شروع کردیا تھا۔اس نے 2016ء اور 2017ء میں شام کی بندرگاہ بانیاس میں جیٹ ایندھن بحری جہازوں کے ذریعے بھیجا اور فروخت کیا تھا۔یہ ایندھن روس کے فوجی طیاروں میں استعمال کیا گیا تھا۔

بیان کے مطابق ’’ روس کی مدد سے اسد رجیم نے شام میں بمباری کی مہم جاری رکھی تھی۔اس نے اسپتالوں ، اسکولوں اور عوامی مقامات کو اس بمباری میں نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں شہریوں کی اموات ہوئی ہیں۔‘‘

محکمہ خزانہ نے میری ٹائم اسسٹنس پر پابندیاں عاید کرنے کے علاوہ سوفراشت کے تین مینجروں کو بھی اس اسکیم میں مبیّنہ غیر قانونی کردار پر بلیک لسٹ کردیا ہے۔یہ تینوں، اس گروپ کے ڈائریکٹر میرین ٹرانسپورٹ آیفان اوکوروکوف ،ڈپٹی ڈائریکٹر کیرن اسٹیپنیان اور ڈپٹی جنرل ڈائریکٹر برائے لیگل اسپورٹ علیا لوگینوف ہیں۔ اسمگلنگ کے اس دھندے میں ملوّث پانچ بحری جہازوں کو بھی بلیک لسٹ کردیا گیا ہے۔

محکمہ خزانہ کے اس اقدام کے تحت امریکی بنک اس کمپنی اور مذکورہ افراد کے ساتھ کوئی مالی لین دین نہیں کرسکیں گے۔امریکا میں ان کے اثاثے (اگر کوئی ہیں تو) منجمد کر لیے گئے ہیں اور عالمی مالیاتی نظام کے ساتھ بھی ان کے لین دین پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔