.

ایران جدید سینٹری فیوجزمشینوں میں افزودہ یورینیم تیار کررہا ہے:آئی اے ای اے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) نے جمعرات کو اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔اس نے اب کہ جدید سینٹری فیوجز مشینوں میں یورینیم کو افزودہ کیا ہے اور وہ مزید جدید سینیٹری فیوجز مشینوں کی تنصیب کا ارادہ رکھتا ہے۔

آئی اے ای اے نے رکن ممالک کو پیش کی گئی اس رپورٹ میں بتایا ہے کہ 25 ستمبر 2019ء کو ایجنسی نے اس امر کی تصدیق کی تھی کہ آر اینڈ ڈی لائنز دو اور تین میں پہلے سے نصب شدہ سینٹری فیوجز میں یورینیم کو افزودہ کیا گیا ہے۔ان سینٹری فیوجز کو پہلے ہی شمار کیا گیا تھا۔

ایران امریکا کی عاید کردہ پابندیوں کے جواب میں چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کی مرحلہ وار خلاف ورزیاں کررہا ہے۔اس سمجھوتے کے تحت ایران صرف پہلی نسل کے آئی آر-1سینٹری فیوجز ہی میں یورینیم کو افزودہ کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال مئی میں اس جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ کڑی اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں جس سے ایران کی تیل کی برآمدات نصف سے بھی کم ہو کر رہ گئی ہیں اور اس کی قومی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے۔

ایران نے اس سال مئی میں امریکا کی ان سخت پابندیوں کے ردعمل میں عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تقاضوں سے پہلوتہی کے لیے سلسلہ وار اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ایرانی صدر حسن روحانی نے تین جولائی کو یورینیم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر سمجھوتے میں شامل یورپی یونین کے رکن ممالک ایران کو امریکا کی پابندیوں سے تحفظ دینے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر سات جولائی کے بعد آراک میں واقع بھاری پن کے جوہری ری ایکٹر میں بھی سرگرمیاں بحال کردی جائیں گی۔

بھاری پن کو جوہری ری ایکٹرز میں پلوٹونیم کی تیاری کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور پلوٹونیم کو ایندھن کے طور پر جوہری وار ہیڈز کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔