.

آرامکو حملوں کی سہ فریقی ٹیم تحقیقات کررہی ہے: ڈیوڈ شنکر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ کےمعاون خصوصی ڈیوڈ شنکر نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی قومی تیل کمپنی آرامکو پر14 ستمبر کوہونے والے حملے کی تحقیقات کے لیے امریکا - یورپی – سعودی ماہرین پرمشتمل ٹیم تحقیقات کررہی ہے۔

شنکر نے جمعرات کے روز "العربیہ" سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ ان کا ملک خلیج میں بحری اتحاد میں حصہ لینے کے لیے یورپی ممالک سے بات چیت کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمن میں جنگ اور آرامکو تنصیبات پر حملوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں ڈیوڈ شنکر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ایران کے ساتھ بات چیت کے مخالف نہیں مگر ایرانی شرائط پر بات چیت نہیں ہوگی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ایک نئے معاہدے پر ہوں گے جس میں ایران کو خطے میں مداخلت کی روک تھام پرمجبور کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک جانتا ہے کہ حوثی ملیشیا ایران کے ایجنٹ ہیں اور تہران اس کو اسلحہ فراہم کررہا ہے۔

شنکر نے کہا کہ یورپی ممالک امریکا کے اس موقف کی تائید کرتے ہیں کہ آرامکوتنصیبات پر حملہ ایران سے ہوا ہے۔یہ حملہ شمال کی سمت سے کیا گیا۔ اس واقعے کی تحقیقات ایک مشترکہ ٹیم کررہی ہے۔ جلد ہی یہ ٹیم اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے گی جس کے بعد ایران کے خلاف کارروائی کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔