.

برطانوی پرچم بردار ٹینکرایران سے’رہائی‘ پانے کے بعد دبئی میں لنگرانداز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کا پرچم بردار ٹینکر ایران میں دس ہفتے تک ’’زیر حراست‘‘رہنے کے بعد ’’رہا‘‘ ہوکر اتوار کے روز دبئی پہنچ گیا ہے۔برطانوی ٹینکر اسٹینا ایمپرو جمعہ کو ایران کے پانیوں سے روانہ ہوا تھا اور اس کو ہفتے کے روز دبئی کی بندرگاہ راشد پر لنگرانداز کردیا گیا ہے۔

قبل ازیں اس بحری جہاز کی مالک سویڈش کمپنی اسٹینا بلک کے چیف ایگزیکٹو ایرک ہینل نے ایک ٹیکسٹ پیغام میں برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا تھا کہ جہاز ایران سے روانہ ہونے کے بعد دبئی میں ایک گودی(برتھ) کی جانب جارہا ہے۔

اس کمپنی کے ترجمان نے کہا تھا کہ دبئی پہنچنے کے بعد جہاز کے عملہ کا طبی معائنہ کیا جائے گا اور وہاں ضروری پوچھ تاچھ کے بعد انھیں ان کے آبائی علاقوں کی جانب روانہ کردیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے جہاز کے عملہ کے تیئیس ارکان میں سے سات کو چار ستمبر کو رہا کردیا تھا۔باقی ارکان کا تعلق بھارت ، روس اور فلپائن سے ہے۔

ایران نے گذشتہ سوموار کو برطانیہ کے پرچم بردار ٹینکر اسٹینا ایمپرو کو عدالتی اور قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد چھوڑنے کے اعلان کیا تھا لیکن ایرانی حکام نے اس کو چار روز کے بعد ایران کی آبی حدود سے باہر جانے کی اجازت دی ہے۔

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے انیس جولائی کو اس ٹینکر کو پکڑ لیا تھا اور تب سے اسے یرغمال بنا رکھا تھا۔پاسداران انقلاب کا کہنا تھا کہ انھوں نے اسٹینا ایمپرو کو آبنائے ہُرمز کے نزدیک بین الاقوامی جہاز رانی کی خلاف ورزیوں کے الزام میں قبضے میں لیا تھا لیکن برطانیہ نے ان کے اس موقف کو مسترد کردیا تھا۔

برطانوی دفتر خارجہ نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ایران کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ جہاز رانی کی گذرگاہ کی حدود میں جہاز پرغیر قانونی قبضہ بالکل ناقابل قبول ہے اور یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کے بھی منافی ہے۔‘‘

پاسداران انقلاب نے یہ کارروائی جبل الطارق میں اس سے دو ہفتے قبل ایک ایرانی تیل بردار جہاز گریس اوّل کو پکڑنے کے ردعمل میں کی تھی۔برطانوی حکام نے اگست میں اس جہاز کو چھوڑ دیا تھا اور یہ وہاں سے روانہ ہونے کے بعد شام کی بحری حدود میں لاپتا ہوگیا تھا۔

اس برطانوی ٹینکر کو پکڑنے سے پہلے خلیج میں دو اور بحری جہازوں پر حملے کیے گئے تھے۔ امریکا نے ایران پر ان دونوں حملوں کا الزام عاید کیا تھا۔