.

سعودی عرب نے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے

سالانہ زر مبادلہ ایک کھرب 15 ارب ریال سے زاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے سیاحتی ویزا شروع کر کے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے باضابطہ طور پر اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔

جمعہ کے روز سیاحتی اداروں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی موجودگی میں الریاض میں جنرل اتھارٹی برائے سیاحت و قومی ثقافتی ورثہ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں بتایا گیا کہ مملکت میں سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور سیاحت سے سعودی عرب کو سالانہ ایک کھرب پندرہ ارب ریال کے زر مبادلہ کے حصول کی توقع ہے۔

عالمی یوم سیاحت کے موقع پر ہونے والے اس پروگرام میں عالمی سیاحتی آرگنائزیشن کے صدر زوراب پولو کاشیفیلی اور عالمی سفر و سیاحت کونسل کی چیئرپرسن گلوریا گیوارا سمیت عالمی سیاحتی شعبے کی دسیوں شخصیات نے شرکت کی۔

سرمایہ کاروں کا خیر مقدم

نیشنل ٹورزم اینڈ ہیریٹیج اتھارٹی کے چیئرمین احمد ال خطیب نے کہا کہ مملکت کے وژن 2030ء کے آغاز کے بعد سے ہم نے سیاحت کے بڑے منصوبوں کے آغاز اور قومی سیاحت کی حکمت عملی اختیار کرنے، سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے ترغیبی ضابطوں کو اپنانے کے ساتھ مل کر عالمی سیاحت کی منزل تک پہنچنے کے لیے سخت تگ ودو شروع کر دی ہے۔

اس موقع پران کا کہنا تھا کہ آج ہم نہ صرف زائرین کے لیے اپنےملک کے دروازے کھول رہے ہیں بلکہ ہم سرمایہ کاروں، خواتین اور تاجروں کا بھی مملکت میں سرمایہ کاری کے لیے خیر مقدم کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے بڑے مواقع دستیاب ہیں۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں مملکت کی ترقی کے ویژن 2030ء کی منزل کے حصول کا سفر جاری رکھیں گے۔

الخطیب نے کہا کہ اس تاریخی لمحے میں سعودی مملکت نے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے اپنے دروازے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

115 ارب ریال کا زر مبادلہ

الخطیب نے کہا کہ سعودی عرب کے محکمہ سیاحت میں سالا نہ ایک کھرب 15 ارب ریال کا زر مبادلہ کمانے کی صلاحیت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب کا عالمی سطح پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مملکت کے وژن 2030ء کے آغاز کے بعد سے ہم نے سیاحت کے بڑے منصوبوں کے اجراء اور سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے ترغیبی ضوابط کو اپنانے کے ساتھ مل کرقومی سیاحت کی ترقی کے لیے عمومی حکمت عملی اختیار کی اور سیاحت کے فروغ کے لیے سخت محنت شروع کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک عظیم تاریخی ورثہ ہے جسے دنیا کے سیاح دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔ سعودی عہدیدار نے کہا کہ ہمارے پاس پانچ ایسے تاریخی مقامات بھی ہیں جنہیں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت 'یونیسکو' عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دے چکا ہے۔

آسان شرائط پر 49 ممالک کے لیے ویزوں کا اجرا

سعودی عرب کی حکومت نے فی الحال 49 ممالک کے لیے آسان شرائط پر سیاحتی ویزوں کا آغاز کیا ہے۔ مملکت سنہ 2030ء تک غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں سالانہ 10 کروڑ تک اضافہ کرنا چاہتی ہے جب کہ اس وقت سالانہ سیاحوں کی تعداد 4 کروڑ 10 لاکھ ہے۔

سیاحوں کی تعداد کا ہدف پورا ہونے کی صورت میں سیاحت کے شعبے میں آمدن تین فی صد سے بڑھ کر 10 فی صد ہوجائے گی۔ سیاحت کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں ملک بھر میں سیاحت کے شعبے میں ملازمتوں کے مواقع چھ لاکھ سے بڑھ کر 16 لاکھ تک ہوجائیں گے۔