.

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں : سلامتی کونسل کے 8 ارکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان سمیت آٹھ ممالک نے ہفتے کے روز ایک مشترکہ بیان میں سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہ بیان فرانس، جرمنی، چین، برطانیہ، روس، امریکا، کویت اور سویڈن کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

بیان میں حوثیوں کے حملوں کو نہ صرف سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیے بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی وسیع خطرہ قرار دیا گیا ہے اور ان سے اقوام متحدہ کے زیر قیادت سیاسی عمل کے سبوتاژ ہونے کی تلوار لٹک رہی ہے۔

مذکورہ آٹھ ممالک کے نمائندے 26 ستمبر بروز جمعرات ایک مجموعے کی حیثیت سے اکٹھا ہوئے تھے۔ بیان کے مطابق ان ممالک نے یمن میں اقوام متحدہ کے زیر قیادت سیاسی عمل کے لیے اپنے سپورٹ جاری رکھنے کی تاکید کی۔

ان ممالک نے سعودی عرب کے لیے قدرکی نگاہ کا اظہار کیا جس نے 25 ستمبر کو یمن کی امداد کی مد میں اقوام متحدہ کو 50 کروڑ ڈالر پیش کیے۔

بیان میں یمن میں تنازع کے فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرار داد 2451 کے متن کے مطابق انسانی امداد کے جلد اور محفوظ داخلے کو آسان بنائیں۔ بیان میں شریک ممالک نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے موجب اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔ ان میں شہریوں کی جانوں کا تحفظ شامل ہے۔

بیان میں آٹھوں ممالک نے یمن میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس اور ان کی جانب سے یمنی حکومت اور حوثیوں کو اپنے ساتھ تعمیری اور مستقل صورت میں شرکت کی دعوت کی سپورٹ کا اعلان کیا۔ مجموعے نے اسٹاک ہوم معاہدے پر عمل درامد اور یمن میں تنازع کے ایک سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے خصوصی ایلچی کی کوششوں کو سراہا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ زور حرکت پکڑنے کے لیے آٹھوں ممالک کا مجموعہ یمنی فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ الحدیدہ میں فائر بندی کا احترام کریں اور الحدیدہ معاہدے پر عمل درامد سے متعلق مذاکرات میں تعمیری شرکت کو یقینی بنائیں۔

بیان میں گذشتہ ہفتے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے روک دینے کے اعلان کو یمن میں جارحیت کے روکے جانے کی طرف اہم اولین اقدام شمار کیا گیا۔ بیان کے مطابق اس کے بعد حوثیوں کی جانب سے زمینی طور پر مثبت اقدامات اور عرب اتحاد کی جانب سے ضبط و تحمل کے اظہار کی ضرورت ہے۔

آٹھوں ممالک کے مجموعے نے اس بات پر زور دیا کہ وہ یمن میں امن عمل اور اس سے متعلق سلامتی کونسل کی قرار دادوں کا پابند رہے گا۔ اس میں سلامتی کونسل کی قرار داد 2216 ، خلیج تعاون کونسل کا منصوبہ اور اس پر عمل درامد کا میکانزم اور قومی مکالمہ کانفرنس کے نتائج شامل ہیں۔