.

سلواڈور کے صدر کی جنرل اسمبلی میں خطاب سے قبل 'سیلفی‘

'عالمی فورم پر تقریر کی نسبت تصویر زیادہ موثر ہو سکتی ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایل سلواڈور کے فلسطینی نژاد صدر نجیب ابو کیلا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پہلا خطاب کیا۔ مگر تقریر سے قبل انھوں نے اپنے اسمارٹ فون سے اسٹیج پر کھڑے ہو کر اپنی سیلفی لی جس پر انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جون کے اوائل میں 38 سالہ ابو کیلا ایل سلواڈور کے صدر بنے۔ تین ماہ کے دوران انھوں نے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ انحصار کیا اور اپنے بیانات اور تقاریر میں ماضی سے الگ تھلگ ہونے کا تاثر دیا۔

ابو کیلا جنرل اسمبلی میں ڈائس پرآئے۔ حاضرین کو سلام کیا۔ ہال میں ان کی اہلیہ اپنے بچے کو گود میں لیے موجود تھیں۔ سلام کے بعد مسکراتے ہوئے ابو کیلا نے سیلفی لینے کے لیے چند لمحے کا وقت مانگا۔

انھوں نے کہا زیادہ لوگ تقریر سننے کے بجائے اس تصویر کو دیکھنے میں دلچسپی لیں گے۔ مجھے امید ہے کہ یہ تصویر اچھی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ 'انسٹاگرام پر کچھ تصاویر اس جنرل اسمبلی میں کسی بھی تقریر سے زیادہ اثر انداز ہوسکتی ہیں اور عالمی رہنماؤں کا یہ سالانہ اجلاس ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے الیکٹرانک میڈیا پر دکھایا جاسکتا ہے۔‘

کنزرویٹو تاجر اور سان سلواڈور کے سابق میئر نجیب ابو کیلا نے وسطی امریکا کی اس چھوٹی ریاست (کل آبادی 66 لاکھ ہے) کے صدر کی حیثیت سے حلف برداری کے موقع پر غربت اور اجتماعی تشدد کے خاتمے کا عزم کیا تھا۔