.

آرامکو حملوں کے بعد امریکا کا نئے ڈرون شکن سسٹم کا تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں 14 ستمبر کو قومی آئل فرم'آراموکو' کی دو تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد امریکا نے نئے ہتھیاروں کی جانچ تیز کردی ہے جس کا مقصد کم بلندی پر اڑنے والے ڈرون کو نشانہ بنانا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پینٹاگان کا کہنا ہے کہ تنازعات کے شکار علاقوں میں ڈرون کا خطرہ غیرمعمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔ امریکا میں دفاعی امور پرمعلومات شائع ہونے والے میگزین' 'پاپولر میکینکس' کے مطابق ڈرون کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر پینٹاگان نے دفاعی کمپنی ریتھیون سے PHASER نامی ایک نیا ڈرون شکن سسٹم خرید کیا ہے۔

مائیکروویو ویپن سسٹم

امریکی میگزین کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پینٹاگان نے کانگرس کو بتایا ہے کہ اس نے نیا مائیکروویو ہتھیاروں کا نظام خریدا ہے جس کی فعالیت اور اثرات کو جانچنے کے لیے جنگ زدہ علاقوں میں آزمایا جائے گا۔

جدید ترین اسلحہ کو ڈرون کو مائیکروویو اور توانائی لی لہروں کا استعمال کر کے مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس دفاعی نظام کو ایک سال کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں استعمال کیا جائے گا۔

امریکی محکمہ دفاع نے یہ نظام 16 ملین ڈالر مالیت میں خرید کیا ہے۔ اسے فیلڈ میں جائزہ لینے کے لیے آزمایا جائے گا۔ توقع ہے کہ اس کی تجرباتی مدت آئندہ سال دسمبر تک مکمل ہوجائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ توانائی کے ذریعے چلنے والے بہت سے مزید ہتھیار بھی خریدے جا رہے ہیں تاکہ ان کے استعمال اور اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔ اس نوعیت کے ہتھیار دنیا کو کشیدہ علاقوں کے محاذوں جن میں شمالی کوریا ، افریقہ ، یوکرین اور مشرق وسطیٰ جہاں پر ڈرون سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں میں استعمال کیا جائے گا۔ پینٹاگان نے یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ اسلحہ سعودی عرب میں بھی آزمایا جائے گا یا نہیں؟۔

آرامکو حملوں کے بعد

امریکی فضائیہ اور دفاعی سسٹم بنانے والی کمپنی ریتھیون کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ خریداری کچھ عرصے سے جاری ہے ، لیکن سعودی عرب میں تیل کی سہولیات پر حملوں کے بعد اس اعلان کا وقت سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حالیہ حملے نے ڈرون کے خطرات کو مزید اجاگر کیا اور پینٹاگان کی جانب سے اس پر فوری ردعمل ظاہر کیا گیا۔

"PHASER" سسٹم مائکروویو کے ذریعے پہلے اور دوسرے درجے ڈرون کو ناکارہ بنانےکے لیے کام کرتا ہے۔ درجہ اول اور دوم میں استعمال ہونے والے ڈرون طیاروں کا وزن 25 کلوگرام تک ہوتا ہے جو 100 سے 200 کلو میٹر کی رفتار سے 1،200 سے 3،500 فٹ تک اونچائی پر اڑتے ہیں۔

میگزین کے مطابق "PHASER" مائیکرو ویو کے ذریعے چوبیس گھنٹے کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ڈرون کو تباہ نہیں کرتا بلکہ برقی لہروں کی مدد سے اس کے الیکٹراننک سسٹم کو ناکارہ بنا دیتا ہے جس کے نتیجے میں ڈرون کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور خلل کی وجہ سے گر جاتا ہے۔