.

کیا دنیا ایران کو تیل کی شام منتقلی کا ذمے دار ٹھہرائے گی ؟ ۔۔۔ پومپیو کا استفسار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے وعدہ کیا تھا کہ تیل بردار جہاز "ایڈریان ڈاریا 1" کسی صورت تیل شام نہیں پہنچائے گا ،، تاہم اس کے باوجود اس نے واقعتا شام کے ساحلوں کے نزدیک تیل منتقل کیا۔

بدھ کے روز اپنی ٹویٹ کے ساتھ پومپیو نے ایک تصویر بھی منسلک کی ہے۔ سیٹلائٹ سے لی جانے والی اس تصویر میں "ایڈریان ڈاریا 1" تیل بردار جہاز شامی ساحل کے قریب نظر آ رہا ہے۔

پومپیو نے ٹویٹ میں استفسار کیا ہے کہ "اگر یہ تیل شام پہنچا دیا گیا تو کیا عالمی برادری ایران کو ذمے دار ٹھہرائے گی؟"

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ اپنے ایرانی ہم منصب پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کر چکے ہیں۔ امریکی چینل CBS News کے پروگرام "Face the Nation" میں شرکت کے دوران پومپیو نے کہا تھا کہ "مجھے نہیں معلوم کہ ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کو کیوں سنا جا رہا ہے؟ ان (جواد ظریف) کا ایران کی خارجہ پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک جھوٹ بولا اور پھر مستعفی ہو گئے....."۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کے حوالے سے بتایا تھا کہ تہران اور مغرب کے درمیان تنازع کے محور ایرانی تیل بردار جہاز نے بحیرہ روم کے ساحل پر لنگر انداز ہونے کے بعد اپنی کھیپ حوالے کر دی۔

ایرانی تیل بردار جہاز "ایڈریان ڈاریا 1" نے گذشتہ ماہ کے اوائل میں شام کے ساحل کے نزدیک اپنا ترسیل اور وصول کا نظام بند کر دیا تھا۔ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں یہ جہاز شام میں طرطوس کی بندرگاہ کے نزدیک نظر آیا۔