.

گرفتار صحافیوں سے متعلق سوال پر ایردوآن "فوكس نيوز" کے میزبان پر برس پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے حکومت کی جانب سے وسیع پیمانے پرگرفتاریوں بالخصوص صحافیوں کے حراست میں لیے جانے سے متعلق سوال پر "فوكس نيوز" کے میزبان کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا۔

ایردوآن نے ترکی کی جیلوں میں صحافیوں کی موجودگی کی تردید کی بلکہ سینہ زوری کرتے ہوئے ان تمام پر باغی ہونے کا الزام عائد کیا۔ جب "فوكس نيوز" کے میزبان نے ترکی کے صدر کی بات کو زیر بحث لانے کی کوشش کی تو ایردوآن بگڑ گئے اور میزبان سے کہا کہ "تم میرے ساتھ ایک صحافی کی طرح نہیں بلکہ تحقیق کار کی طرح پیش آ رہے ہو"۔

فوکس نیوز کے میزبان نے بتایا کہ 2016 میں ناکام انقلاب کی کوشش کے بعد سے ترکی میں کم از کم 180 میڈیا outlets کی جبری بندش عمل میں آئی، 2 لاکھ ویب سائٹس کو بلاک کر دیا گیا اور کم از کم 100 صحافیوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچایا گیا۔ اسی طرح سیکڑوں دیگر افراد کے خلاف بنا ثبوت کے دہشت گردی کے الزام میں عدالتی کارروائی انجام دی گئی۔

میزبان کے مطابق ترکی میں صحافیوں کی انجمن ایردوآن پر الزام عائد کرتی ہے کہ انہوں نے دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں صحافیوں کی سب سے بڑی تعداد کو حراست میں لے رکھا ہے۔

ان چبھتے ہوئے حقائق پر ایردوآن کے پاس فوکس نیوز کے میزبان پر غصہ اتارنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ ترکی کے صدر نے میزبان سے کہا کہ "تم پر لازم ہے کہ ایک صحافی کی طرح بات چیت کرو تا کہ میں ایک سیاست دان کی طرح تمہارے سوالات کے جوابات دوں"۔

یاد رہے کہ 2016 میں ناکام انقلاب کے بعد تین برسوں میں ترکی نے 77 ہزار سے زیادہ افراد کو عدالتی کارروائی شروع ہونے تک جیل میں ٹھونسا۔ ایردوآن حکومت نے تقریبا 1.5 لاکھ کے قریب سرکاری ملازمین، فوج کے اہل کاروں اور دیگر اداروں میں کام کرنے والے افراد کے خلاف برخاستگی یا معطلی کے فیصلے جاری کیے۔