.

افغان طالبان وفد کی پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے دفتر خارجہ میں ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سرکردہ افغان طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں بدھ کی شب دارلحکومت پہنچنے والے افغان طالبان کے وفد نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے۔

​پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق افغان طالبان کے پاکستان کے دورے کا مقصد امریکا اور طالبان کے درمیان اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا ہے۔ طالبان کے وفد پاکستان کی دفتر خارجہ آمد پر شاہ محمود قریشی نے اُن کا استقبال کیا۔

طالبان کے دوحا آفس کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا کہ طالبان کے وفد میں مذاکراتی ٹیم کے رہنماؤں سمیت پولیٹیکل آفس کے سینئر ارکان شامل ہیں اور یہ وفد چھ اکتوبر تک پاکستان میں قیام کرے گا۔

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ طالبان کے وفد کی پاکستان آمد کا کوئی ایک ایجنڈا نہیں ہے۔ اس دورے کے دوران ​امن مذاکرات، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سمیت افغان مہاجرین کے مسائل اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت ہوگی۔

امریکا کی جانب سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی منسوخی کے بعد طالبان مسلسل علاقائی طاقتوں اور افغانستان کے پڑوسی ممالک کی قیادت سے رابطے کر رہے ہیں اور اس سلسلے کا یہ اُن کا چوتھا دورہ ہے۔ اس سے قبل حالیہ چند روز کے دوران طالبان رہنماؤں نے روس، چین اور ایران کا بھی دورہ کیا تھا۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد بھی پاکستان میں موجود ہیں، تاہم یہ بات واضح نہیں کہ افغان طالبان رہنما اپنے اسلام آباد قیام کے دوران امریکی ایلچی سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔