.

ایرانی انٹیلی جنس کاالقدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کےقتل کی سازش ناکام بنانے کادعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس سروس نے القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی سازش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس کے مطابق پاسداران انقلاب کی سراغرساں تنظیم کے سربراہ حسین تائب نے میجر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی سازش کا انکشاف کیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ سازش ’’اسرائیلی ، عرب‘‘ انٹیلی جنس سروسز نے تیار کی تھی۔

پاسداران انقلاب کی سراغرساں تنظیم ایران کی انٹیلی جنس وزارت سے الگ وجود رکھتی ہے اور یہ اس سے آزاد اپنی کارروائیاں انجام دیتی ہے۔

حسین تائب نے کہا کہ قاسم سلیمانی کو ایران کے جنوب مشرقی صوبہ کرمان میں محرم الحرام کے دوران میں ایک شیعہ اجتماع میں شرکت کے موقع پر قتل کرنے کی سازش تیار کی گئی تھی۔اس کا مقصد ایران میں فرقہ واربنیاد پر جنگ چھیڑنے کی کوشش کرنا تھا لیکن اس قاتل ٹیم کے تمام ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایرانی عہدہ دار کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی کے قتل کی سازش کئی سال تک تیار کی جاتی رہی تھی لیکن انھوں نے اس حوالے سے مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔

پاسداران انقلاب کی القدس فورس ایران سے باہر جنگی کارروائیوں کی ذمے دار ہے۔پڑوسی ممالک شام اور عراق میں اس کے تحت ہی شیعہ جنگجو لڑائی کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔اس پر حال ہی میں شام سے اسرائیل پر حملے کی سازش کا الزام عاید کیا گیا تھا۔شام میں القدس فورس صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور لبنان کی شیعہ ملیشیا کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف لڑرہی ہے۔

ایرانی حکومت پر نظام مخالف سیاست دانوں کے قتل کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔سعودی عرب کی وزارتی کونسل نے منگل کو اپنے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ایرانی نظام کو بمباری ، تباہی اور قتلوں کے سوا کچھ نہیں آتا ہے اور اس نے گذشتہ چالیس سال کے دوران میں یہی کچھ کیا ہے۔‘‘