.

ایران کو عسکری سبق نہ سکھایا تو مزید حملوں کے لیے تیار رہیں : امریکی تھنک ٹینک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک معروف امریکی تھنک ٹینک نے زور دیا ہے کہ ایران کو عسکری کارروائی کے ذریعے سزا دی جائے اور تہران کو منہ توڑ جواب دینے کی پالیسی دوبارہ سے اپنائی جائے بصورت دیگر ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کی طرح کے غیر متوقع حملوں کا سامنا کیا جائے۔ وہ حملے جن میں تہران نے تیل بردار جہازوں اور ارامکو میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

اس حوالے سے واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کی جانب سے جاری رپورٹ میں باور کرایا گیا ہے کہ ایرانی نظام جنگ سے خوف کھا رہا ہے اور وہ اپنی تاریخ کے ایک انتہائی کمزور مرحلے سے گزر رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مذکورہ تھنک ٹینک کے 3 ماہرین نے مشترکہ پالیسی کے ایک سیمینار میں مطالبہ کیا کہ ایران کو سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر خطر ناک حملوں کے سبب سزا ملنی چاہیے۔ ماہرین نے باور کرایا کہ تہران کو مناسب قیمت نہ چکانا پڑی تو وہ اپنی خطرناک کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ میں خارجہ پالیسی پروگرام کی نائب ڈائریکٹر سوان میلونی کا کہنا تھا کہ مئی 2018 میں جب امریکی صدر ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدہ ہوئے تو بہت سے حلقوں نے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی خبر دی تھی۔ بعد ازاں ایران کو جلد اندازہ ہو گیا کہ اس پر دباؤ کی پالیسی نے ملک کی معیشت پر براہ راست اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایرانی شہریوں نے بھی سابقہ پابندیوں کے مقابلے میں اس بار کی شدت کو زیادہ محسوس کیا۔ جب ایران نے یہ جان لیا کہ وہ انتہائی دباؤ کی مہم کے سامنے ڈٹا نہیں رہ سکتا تو اس نے پھر سے اسی ترکیب کا سہارا لیا جو ماضی میں اس کے لیے بہتر طور مددگار ثابت ہوئی تھی۔ اس ترکیب کا بنیادی خیال یہ ہے کہ "جب تم پر ضرب لگائی جائے تو پھر لازم ہے کہ تم زیادہ زوردار ضرب لگاؤ"۔

غالبا ایران نے یہ روش اپنائی کہ باقاعدگی کے ساتھ اپنے عمومی طریقہ کار کو تبدیل کرے۔ مثلا اس ہفتے ایک تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا تو اگلے ہفتے جوہری معاہدے کی شقوں کی پاسداری میں کمی کر دے۔

دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس کے ایک ذمے دار اور "انسداد شدت پسندی پروگرام" کے سینئر مشیر نارمن رول کا کہنا ہے کہ "ابھی تک امریکی اور علاقائی سطح پر جوابی کارروائی متوازن رہی۔ سعودی عرب، امارات کویت اور بحرین کا مقصد اور واشنگٹن کا مقصد ایک ہے۔ کوئی بھی اس وقت ایران کے ساتھ تنازع میں پڑنے کو اپنے مفاد میں خیال نہیں رکتا۔ مذکورہ ممالک میں سے کوئی ملک بھی ایران کی سرزنش کے لیے اس پر ضرب لگانے کے بعد از نتائج کی خبر نہیں دے سکتا۔ البتہ یہ بات یقینی ہے کہ ایسے فریق ہیں جن کو امریکا کی جانب سے تہران کو نشانہ نہ بنانے پر مایوسی ہوئی"۔


نارمن کے مطابق ایران کی جانب سے اشتعال انگیزیوں کے باوجود تہران میں حکمراں نظام ایسے وقت میں کسی تنازع میں نہیں پڑنا چاہتا جب کہ اسے اندرونی طور پر بھی شدید کمزوری اور قیادت کی جلد منتقلی کا سامنا ہے۔ لہذا غالب گمان یہ ہی ہے کہ ایران پر عسکری ضرب لگانے کی وجہ سے ایک بھرپور جنگ کا امکان بہت کم ہے اگرچہ اس کے برعکس ہونے کے حوالے سے تشویش ناک اندیشے بھی پائے جاتے ہیں۔

سینئر مشیر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو درپیش تمام تر تنقیدوں کے بیچ امریکی انتظامیہ نے اپنی پالیسی میں بڑی حد تک ثابت قدمی کو برقرار رکھا ہے۔ بالخصوص واشنگٹن نے تہران کے برتاؤ میں تبدیلی آنے تک ایران پر سے پابندیاں اٹھانے کو مسترد کر دیا ہے۔ البتہ اس پالیسی پر عمل درامد میں جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ یہ کہ ایران کے حوالے سے کوئی ایسی روش موجود نہیں جس کو امریکا کی دونوں جماعتوں کی حمایت حاصل ہو۔

نارمن نے مزید کہا کہ "اس میں کسی کو شک نہیں کہ ایران بین الاقوامی خلاف ورزیوں کی طویل فہرست کا ذمے دار ہے ... اور سب کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ ایرانی نظام نے قیمت چکائے بغیر اپنی کارستانیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ یقینا پوری دنیا میں بدمعاش اور سرکش فعال فریق اس سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں"۔

سیمینار میں انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل سنگھ نے کہا کہ "آئندہ مرحلے میں بے شک ایران مخصوص نوعیت کے حملے کرنے کی اپنی روش جاری رکھے گا۔ وہ امریکی جواب کا منتظر ہے جس کا مقصد اس متعین خطرے کا علاج ہے۔ اس کے بعد ایران ایک مختلف طریقے سے ایک بالکل مختلف ہدف پر حملہ کر کے واشنگٹن کو حیران کرنے کی کوشش کرے گا۔ امریکا کو چاہیے کہ وہ اس روش کا حقیقی ادارک حاصل کرے۔ لہذا اس انتہائی دباؤ ڈالنے کی مہم کو وسعت دی جائے تا کہ وہ دیگر شعبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکے۔ اس میں خفیہ عسکری کارروائیاں اور سفارتی دباؤ شامل ہے۔ ایرانی حملوں کے آپشن اور ان کی رفتار جوابی کارروائی کی متقاضی ہے۔ واشنگٹن کو متحرک کارروائیوں کا جواب متحرک طریقے سے ہی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے"۔