.

پیرس:چاقو حملے میں چار پولیس اہلکار ہلاک ،جوابی فائرنگ سے قاتل بھی مارا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک حملہ آور نے پولیس ہیڈکوارٹرز میں چار افسروں کو چاقو کے پے درپے وار کرکے قتل کردیا ہے۔پولیس کی جوابی فائرنگ سے یہ حملہ آور مارا گیا ہے۔

پولیس کے صدر دفاتر پیرس کے تاریخی وسطی علاقے میں واقع ہیں۔نوترے دیم کیتھڈرل اور دوسری تاریخی عمارتیں اس کے نزدیک ہی ہیں اور یہاں عام طور پر سیاحوں کا بہت رش ہوتا ہے۔چاقو حملے کے بعد پولیس کی بھاری نفری اور ہنگامی سروس کی گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھیں اور اس کے نزدیک واقع ایک میٹرو اسٹیشن کو بند کردیا گیا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حملہ آور پولیس دفاتر ہی میں کسی انتظامی پوسٹ پر کام کررہا تھا لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس کے کام کی نوعیت کیا تھی۔

چاقو حملے میں چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد فرانسیسی وزیر داخلہ کرسٹوفی کسٹانر نے اپنا ترکی کا دورہ ملتوی کردیا ہے۔وہ آج جمعرات کو ترکی روانہ ہونے والے تھے۔

تحقیقات کاروں نے شُبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ واقعہ کام کی جگہ پر تنازع کا شاخسانہ ہوسکتا ہے اور حملہ آور نے کسی بات پر مشتعل ہو کر اپنے ساتھی پولیس افسروں پر چاقو کے مہلک وار کیے ہیں۔ فوری طور پر واقعے کی مزید تفصیل دستیاب نہیں ہوسکی ہے۔

پیرس کے پراسیکیوٹر بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں لیکن اس مرحلے پر انسدادِ دہشت گردی کی ایجنسیوں کو تحقیقاتی عمل میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

فرانسیسی پولیس افسروں کے قتل کا یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب محکمے میں نامساعد حالات کار پر بے چینی پائی جارہی ہے اور پولیس افسروں میں کام کے دباؤ کی وجہ سے خودکشیوں کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

بدھ کو ہزاروں پولیس اہلکاروں نے پیرس میں اپنے بہتر حالاتِ کار کے لیے مظاہرہ کیا تھا۔ منتظمین کے مطابق اس مظاہرے میں ستائیس ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار اور افسر شریک تھے جبکہ ملک بھر میں پولیس کی کل نفری پندرہ لاکھ افسروں اوراہلکاروں پر مشتمل ہے۔پولیس کا اپنی نوعیت کا یہ ایک بڑا مظاہرہ تھا۔