.

ترکی نے شام کی سرحد پرکنکریٹ کی دیوار اور خار دار تار لگانا شروع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے شام کی سرحد پر دراندازی روکنے کے لیے سیمنٹی بلاکوں سے دیوار کی تعمیر کے ساتھ خار دار باڑ لگانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

ترکی کے ایک مقامی اخبار ینی شفق میں شائع ہونے والی رپورٹ جس کا ترجمہ''ترک پل' نامی ویب سائٹ کی طرف سے کیا گیا میں بتایا گیا ہے کہ یہ اقدام غیر قانونی امیگریشن کی کوششوں سے نمٹنے اور تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر ترکی کے علاقے میں داخل ہونے سے روکنے کے تناظرمیں کیا گیا ہے۔

ترک حکام نے قریبا چھ ماہ پیشتر 'ہیتائی' ریاست کی شام سے متصل 21 کلو میٹر طویل سرحد کے ساتھ سیمنٹ کے بلاک لگا کر اسے بندکرنے کا کام شروع کیا تھا۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ کنکریٹ کے ایک بلاک کا وزن دوٹن اور 300 کلو گرام ہے جب کہ ایک بلاک کی اونچائی ایک میٹر اورچوڑائی 2.5 میٹر ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سرحد پر 2 میٹر اونچی خار دارتاروں کی باڑ ان بلاکس سے سرحد کو محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے۔

ترکی کے حکام نے حال ہی میں شام کی سرحد سے متصل ضلع التن اوز میں کمک کے اقدامات مکمل کرلیے ہیں اور باقی اضلاع کو آئندہ چار ماہ میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

سیف زون

منگل کے روز ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن نے کہا کہ ان کے ملک نے شمال مشرقی شام میں "سیف زون" کے قیام کے لیے امریکا کے ساتھ کوششوں میں پیشرفت نہیں دیکھی جس کے بعد ترکی اپنے طے شدہ روڈ میپ کے مطابق کام جاری رکھے گا۔

انقرہ اور واشنگٹن نے ترکی کی سرحد سے 480 کلومیٹر دور ایک علاقے کو سیف زون قرا ردینے پر اتفاق کیا ہے۔ ترکی چاہتا ہے کہ یہ خطہ شام کی سرزمین 30 کلومیٹر اندر ہو۔ ترکی نے سیف زون کے قیام کے لیے ستمبر کے اختتام تک کی مہلت دی تھی۔ ناکامی کی صورت میں یک طرفہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

انقرہ میں پارلیمانی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اردوآن نے کہا کہ ترکی نے "سیف زون" منصوبے میں 20 لاکھ افراد کو آباد کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیف زون شام کے دریائے فرات سے لے کر عراقی کی مشرقی سرحد تک پھیلا ہوگا۔

ترک صدر نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں کہا تھا کہ سیف زون کے لیے شام کے اندر 30 کلو میٹر دور 480 کلومیٹر علاقے میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔

اگر اس پر عمل درآمد ہوتا ہے تو آٹھ سالہ خانہ جنگی کے نتیجے میں ترکی میں آنے والے شامی پناہ گزینوں کی نصف تعداد کی واپسی کا ذریعہ ثابت ہوگا۔