.

لیبیا : الاخوان کا دست راس وفاق کی حکومت کے انٹیلی جنس ادارے کا سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں جمعرات کے روز "الصمود بریگیڈ" ملیشیا نے اپنے کمانڈر اور ملک میں الاخوان المسلمین اور شدت پسندوں کے دست راس "صلاح بادی" کو قومی وفاق کی حکومت کے زیر انتظام ملٹری انٹیلی جنس ادارے کی سربراہی سونپ دینے کا اعلان کر دیا۔ بین الاقوامی سطح پر مطلوب بادی اتوار سے ملک میں سب سے زیادہ خود مختار ادارے کی ذمے داری سنبھالیں گے۔

اس اقدام نے سوشل میڈیا پر لیبیائی عوام کی مذمت اور حیرت کے ملے جلے تاثرات اور جذبات کا دروازہ کھول دیا۔ انہوں نے بادی کے سابقہ جرائم کا حوالہ دیا جب اس نے 2014 میں "فجر لیبیا" ملیشیا کی کارروائی کے دوران طرابلس کے ہوائی اڈے کو آگ لگا دی تھی اور اس کے نزدیک واقع تیل کے ٹینکس کو تباہ کر دیا۔ بادی نے الاخوان کے مقاصد اور اہداف کی تکمیل کے لیے سیکڑوں نوجوانوں کو موت کی بھینٹ چڑھا دیا۔

یاد رہے کہ "الصمود بریگیڈ" ملیشیا کا کمانڈر صلاح بادی لیبیا میں الاخوان المسلمین جماعت کے اندر طاقت ور نفوذ رکھتا ہے۔ وہ الاخوان کے زیر انتظام "فجر ليبيا" ملیشیا کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے۔ بادی گذشتہ چند برسوں میں دارالحکومت طرابلس میں ہونے والی اکثر جھڑپوں میں شریک رہا۔ ان میں آخری کارروائی طرابلس کی جنگ ہے جس کی قیادت جنرل حفتر کے زیر قیادت لیبیا کی فوج کر رہی ہے تا کہ دارالحکومت کو مسلح ملیشیاؤں اور دہشت گرد جماعتوں کے قبضے سے آزاد کرایا جا سکے۔ بادی ایک سے زیادہ مرتبہ لڑائی کے محاذوں پر بنائے گئے وڈیو کلپوں میں نمودار ہوا جب وہ وفاق کی حکومتی فورسز کی صفوں میں شریک ہو کر لڑ رہا تھا۔

صلاح بادی لیبیا کی اُن اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہے جن پر عالمی سلامتی کونسل نے 2018 میں پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس سے قبل بادی لیبیا میں سیاسی عمل کی رکاوٹ اور سیکورٹی کو سبوتاژ کرنے میں ملوث پایا گیا تھا۔ اس نے اگست 2018 میں دارالحکومت طرابلس کے اطراف ہونے والی جھڑپوں میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں 180 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے علاوہ بدری دہشت گردی کی اس فہرست میں بھی شامل ہے جس کا اعلان لیبیا کے مشرقی حصے میں پارلیمنت نے دو برس قبل کیا تھا۔