.

ھزاع المنصوری نے فضاء سے اپنے آبائی علاقے کی تصاویر جاری کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے خلاباز ہزاع المنصوری نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے لی گئی متحدہ عرب امارات کی متعدد تصاویر شائع کیں جن میں ابو ظبی ریاست میں ان کے آبائی شہر لیوا کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

منگل کے روز منصوری نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر دن کے وقت متعدد تصاویر شائع کیں جن میں واضح طور پر خلیج عرب اور متحدہ عرب امارات کو دکھایا گیا تھا۔

بدھ کے روزالمنصوری نے متحدہ عرب امارات کی رات کے وقت کے شاٹس لیے ۔ رات کی تاریکی میں شہر کی روشن دکھاتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی سمندری سرحد کو واضح طور پر دیکھایا گیا ہے۔

جمعرات کو اس نے اپنے آبائی شہر لیوا کی رات کے وقت لی گئی تصویر جاری کی۔ اس کے ساتھ اس نے لکھا کہ میں نے ربع الخالی کے اس علاقے سے اپنا سفر شروع کیا جہاں میں اپنے خواب کی تعبیر کے لیے بادلوں اور ستاروں کو دیکھا کرتا تھا۔ میں اپنے وطن کی اس مٹی پرقربان جائوں جس نے مجھے یہ ہمت دی کہ میں اتنی بلندیوں سے خلاء سے زمین کا نظارہ کرسکوں۔

قبل ازیں المنصوری نے فضاء سےمکہ معظمہ کی تصاویر بھی ارسال کی تھیں۔

خلاباز ہزاع المنصوری نے گذشتہ اتوار کے روز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے کھینچی گئی زمین کی ایک تصویر ارسال کی۔ خلاء میں جانے کے بعد یہ ان کی پہلی تصویر ہے۔

اس تصویر کے ساتھ ھزاع المنصوری کی طرف سے ایک پیغام بھی جاری کیا گیا جس میں وہ فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ 'آخر کارمیں نے اپنے خواب کو آسمان کی دوسری طرف سے پورا کردیا۔ ھزاع کی نگاہیں خلاء سے زمین پر ہیں۔ میں نے خلائی اسٹیشن سے زمین کی پہلی تصویر لی ہے جسے زمین پر بھیجا جا رہا ہے۔

ہزاع علی المنصوری نے بدھ کے روز پہلے اماراتی خلاباز کی حیثیت سے 61-62 خلائی مشن کے دیگر ممبروں کے ساتھ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے خلائی سفر کا آغاز کیا۔

ان کا یہ سفر قازقستان میں بائیکونور کاسمڈرووم سنٹر انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے شروع ہوا۔ یہ مشن 187 دن جاری رہے گا جس میں ان کے ہمراہ امریکی خلائی ادارے 'ناسا' کےخلاباز جسیکا میر اور روسی خلائی ادارے کے اولیگ اسکریپوچکا شامل ہیں۔

اس سفر کے فورا بعد متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور وزیر دفاع اور دبئی کے حکمران محمد بن راشد نے ٹویٹ کیا کہ "ہزاع المنصوری کی خلاء میں روانگی تمام عرب نوجوانوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ ہم آگے بڑھ سکتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ مل ستاروں پرکمندیں ڈال سکتے ہیں۔ ہمارا اگلا پڑاؤ مریخ ہے جس میں امید ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی گئی تحقیق مریخ تک کے سفر میں مدد گار ثابت ہوگی۔