.

ایردوآن مایوس سرمایہ کاروں کو کیسےشیشے میں اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

ترک حکومت کے اقتصادی پروگرام کے اعدادو شمار مبالغہ آمیز قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی حکومت جہاں ایک طرف بدترین معاشی بحران کا سامنا کررہی ہے تو وہیں وہ دنیا کے سامنے ترکی کی خوشحالی اور اس کی اقتصادی ترقی کے اعدادو شمار کوبڑھا چڑھا کر پیش کرکے اپنی معاشی کم زوریوں پر پردہ ڈال کرعالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب ایردوآن کوآئے روز ترکی کے خلاف غیرملکی سازشوں کا رونا روتے سنا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف ترکی کے اقتصادی شعبے کی طرف سے معاشی ترقی کے اعدادو شمار کو مبالغہ آرائی کی حد تک زیادہ بتانے کی کوشش کی جا رہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوآن نے ملکی معیشت پر"غیر ملکی سازشوں" کے بارے میں اپنی گفتگو کی تجدید کرتے ہوئے کہا کہ ترک معیشت کے خلکاف گذشتہ ایک سال سے زاید عرصے سے بدترین غیرملکی جارحیت اور حملے ہو رہے ہیں مگر اس کے باوجود ترکی کی معیشت غیرمعمولی حد تک مستحکم ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی کی معیشت کا استحکام انقرہ کے خلاف سازشیں کرنے والوں کےمنہ پرطمانچہ ہے۔

ہفتہ کو انقرہ میں حکمران انصاف اور ترقی پارٹی (آق) کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اردوآن نے کہا کہ ترکی "بیرونی اور داخلی سازشوں" کے باوجود اپنی "نشات ثانیہ" کا سفر جاری رکھے گا اور اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ہرکام کرے گا۔

انہوں نے اس طرف اشارہ کیا کہ حکومت افراط زر کا مقابلہ کرنا جاری رکھے گی۔ان کا ہدف سنہ 2021ء میں درمیانی مدتی اقتصادی پروگرام کے اختتام تک افراط زر کی شرح کو 5٪ تک کم کرنا ہے۔ مرکزی بینک نے سود کی شرحوں پر جو فیصلے کیے وہ اچھے اور مثبت ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ سود کی شرحوں میں مزید کمی آئے گی۔ ترک صدر کا کہنا تھا کہ ہمارا ایمان ہے کہ سود تمام برائیوں کی ماں ہے اور ہم اس جرم کے خلاف لڑنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔

ترک حکومت کے معاشی اقدامات

مرکزی بینک کے گورنر کی صدر ایردوآن کی جانب سے معزولی کے بعد بینک نے جولائی اور ستمبر کے درمیان سود کی شرح 7.5 فیصد کم کی۔ اس کے نتیجے میں لیرا کی قیمت میں 24 فی صد کمی ہوئی مگر گذشتہ برس کے مقابلے میں یہ کمی زیادہ نہیں۔ کیونکہ پچھلے سال لیرہ کی قیمت 30 فی صد سے گر کر 16 اعشاریہ 5 فی صد پرآگئی تھی۔

جمعرات کو ترک شماریات اتھارٹی نے گذشتہ ستمبر میں افراط زر کے حوالے سے بتایا کہ شرح کم ہوکر 9.26 فیصد رہ گئی تھی جبکہ اس سے اگست افراط زر کی شرح میں 15.1 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

صدر ایردوآن نے کہا کہ ان کی حکومت کا مقصد شہریوں کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس طرح حکومت کے معاشی پروگرام کے اختتام تک بیروزگاری کو موجودہ 13 فیصد کی شرح کم کرکے 10 فیصد سے کم کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

انہوں نے وسائل کو موثر طریقے سے استعمال کرنے اور بچت پر مبنی بجٹ کے نقطہ نظر کو اپنانے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ ترک صدر نے شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بچت کو غیر ملکی کرنسیوں کی بجائے ترکی کی لیرا پر مبنی مالیاتی مصنوعات میں لگائیں۔

دگر گوں سیاسی صورتحال

معیشت پر نظر رکھنے والی ویب سائیٹ'یورو منی' نے تجزیہ نگاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکی کی موجودہ دگرگوں سیاسی صورت حال ملک کی معیشت کے لیے خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اور معاشی عوامل کے امتزاج کی وجہ سے ترکی کی معیشت زیادہ بحران کا شکار ہوگئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خارجہ پالیسی اور ملکی سیاست ترکی کے بارے میں سرمایہ کاروں کے خایلات کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔ ترک صدر کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم معمول کے مطابق سرمایہ کاروں کے لیےاعتماد میں لانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

مایوس کن اقتصادی پروگرام

عالمی سرمایہ کار ترکی کی سیاسی صورتحال سے پریشان ہیں۔ خاص طور پر حالیہ بلدیاتی انتخابات کے بعد جس میں 'آق' پارٹی نے ترکی کا سب سے بڑا شہر کھو دیا۔ اس کا ایک اور نقصان مرکزی بینک کے گورنر کی برطری بھ تھا۔ برطرف گورنر نے ملک کو مستحکم کرنے کے لیے سود کی شرح بلند رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کو موجودہ حکومت کی صورتحال ، بڑھتی ہوئی غیر یقینی اور بجٹ خسارے کے اہداف پورے ہونے میں ناکامی پر سخت مایوسی ہے۔

ترکی کی معیشت کی بدحالی کے دیگر اسباب میں شامی پناہ گزینوں کا بحران بھی ایک اہم وجہ ہے۔