.

طیب ایردوآن کے حامی باسکٹ بال کھلاڑی کے درپے ہوگئے

انیس کانٹر پرامریکا میں ایک مسجد کے باہرحملہ اور دھمکیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں 'بوسٹن سیلٹکس' ٹیم کی طرف سے کھیلنے والے ترک باسکٹ بال کے کھلاڑی انیس کانٹر پر جمعہ کے روز ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن کے حامیوں نے بوسٹن کی ایک مسجد کے باہر حملہ کیا اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

فاکس نیوز کے مطابق کانٹر نے بتایا کہ دو افراد اس کے قریب آئے اور زور سے چلائے۔ اسے بری بھلا کہا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انیس کانٹر اور اس کے ساتھی ٹیکو نے جمعہ کی نماز کے بعد بوسٹن میں مسلم سوسائٹی چھوڑنے کی کوشش کی تو دو افراد نے ان کے قریب آکر انہیں برا بھلا کہا۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کی حکومت مجھے امریکا میں بھی اپنے مذہب پر آزادانہ طور پر عمل کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ میں اور میرا ساتھی اس مسجد میں اس لیے نماز پڑھنے آتے ہیں کیونکہ یہ ہماری رہائش گاہ کے قریب ہے۔

کانٹر نے کہا کہ میرے ساتھی اور میں نے دعا ختم کی اور باہر نکلے تودو افراد نے ہمیں گھیرنے کی کوشش کی۔ اس واقعے کی ایک فوٹیج بھی منظرعام پرآئی ہے۔ وہ صرف ہمارے انتظار میں تھے۔ وہ چیخ رہے تھے اور ہمیں کوس رہے تھے۔ ایک نے کہا کہ یہ پاگل ہے۔

کانٹر کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جنونی لگ رہے تھے۔ امریکا میں بھی انہوں نے مجھے معاف نہ کیا حالانکہ مجھے یہاں پر پرامن انداز میں اور بلا خوف عبادت کا موقع ملنا چاہیے۔

ترکی کے حکومت مخالف باسکٹ بال کھلاڑی نے کہا کہ سنہ 2018ء میں مجھے ہر ہفتے کم سے کم چار بار دھمکیاں ملتی رہتی تھیں۔

خیال رہے کہ ستائیس سالہ کانٹر کو اردوآن کی حکومت کا واضح طور پر مخالف تصور کیا جاتا ہے۔