.

امریکا نے شام میں ترک فوج کی کارروائی کی توثیق نہیں کی:پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پینٹاگان نے وضاحت کی ہے کہ امریکا نے شمالی شام میں ترکی کی کرد جنگجوؤں کے خلاف طے شدہ فوجی کارروائی کی توثیق نہیں کی ہے اور امریکی فوج کسی بھی طرح اس کی حمایت نہیں کرتی ہے۔

پینٹاگان کے ترجمان جوناتھن ہوفمین نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’محکمہ دفاع ترکی پر یہ واضح کرتا ہے اور جیسا کہ صدر ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ہم شمالی شام میں ترک آپریشن کی توثیق نہیں کرتے۔ امریکا کی مسلح افواج اس کی حمایت کریں گی اور نہ وہ اس طرح کی کسی کارروائی میں شریک ہوں گی۔‘‘

ترجمان کے بہ قول امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر اور چئیرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف آرمی جنرل مارک میلے نے اپنے ترک ہم منصبوں کو یہ باور کرادیا ہے کہ ’’ترکی کے یک طرفہ اقدامات سے اس کے اپنے لیے ہی خطرات پیدا ہوں گے۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قبل ازیں ترکی کو سخت الفاظ میں دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اپنی ’’حدود سے تجاوز‘‘ کیا تو اس کی معیشت مکمل طور پر تباہ اور تہس نہس کردی جائے گی۔انھوں نے یہ دھمکی شام کے شمال مشرقی علاقے سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے بعد دی تھی۔

اتوار کو ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع شامی علاقے میں ہزاروں کردوں نے ترک فوج کی مجوزہ کارروائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ہفتے کے روز شامی علاقے میں کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

ترک صدر نے کہا تھا کہ ان کی فوج شام میں کسی بھی لمحے کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے جبکہ امریکا کی جانب اس مفہوم کی اطلاع سامنے آئی تھی کہ وہ اس کارروائی کے راستے میں حائل نہیں ہوگا لیکن اب اس کی وضاحت کردی گئی ہے۔

امریکا کے علاوہ یورپی یونین نے بھی ترکی کی اس اس مجوزہ فوجی کارروائی کی مخالفت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے کسی بھی حملے سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا ، مزید ہزاروں شامی دربدرہوجائیں گے اور ملک میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔