.

امریکی فوجیوں نے تو صرف 30 دن کے لیے شام میں رہنا تھا: صدر ٹرمپ

کردوں نے ہم سے مل کر داعش سے جنگ کی لیکن انھیں اس مقصد کے لیے بھاری رقوم اور آلات دیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی شام سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ خطے میں داعش کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے والی کرد فورسز کی حمایت جاری رکھنا بہت مہنگا ثابت ہورہاتھا۔

صدر ٹرمپ نے سوموار کو سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا ہے کہ ’’امریکا نے تو شام میں صرف تیس دن تک رہنا تھا لیکن اب تو بہت سال گزر گئے ہیں۔ ہم وہاں رہے ہیں اور بغیر کسی مقصد کے اس لڑائی میں الجھتے ہی چلے گئے۔جب میں واشنگٹن میں وارد ہوا تو علاقے میں داعش کا اثرورسوخ تھا۔ہم نے بہت جلد داعش کی خلافت کو ایک سو فی صد تک شکست سے دوچار کیا۔‘‘

وہ ایک اور ٹویٹ میں لکھتے ہیں:’’ کردوں نے ہم سے مل کر لڑائی لڑی لیکن انھیں اس مقصد کے لیے بھاری رقوم اور آلات دیے گئے۔ وہ ترکی سے عشروں سے لڑتے چلے آرہے تھے‘‘۔

امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ ’’اب ترکی ، یورپ ، شام ، ایران ، عراق ، روس اور کردوں کو مل کر صورت حال کا حل نکالنا ہوگا۔‘‘

انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا ہے:’’اب وقت آگیا ہے کہ ہم ان مضحکہ خیز اور غیر مختتم جنگوں سے نکل آئیں۔ ان میں بہت سی لڑائیاں قبائلی نوعیت کی ہیں۔ہمیں ان جنگوں سے اپنے فوجیوں کو واپس بلا لینا چاہیے۔ ( اب) ہم وہاں لڑیں گے،جہاں ہمارا فائدہ ہوگا اور ہم صرف جیتنے کے لیے لڑیں گے۔‘‘

امریکا نے آج ہی یہ اعلان کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج شمالی شام میں ترکی کی فوجی کارروائی میں شریک ہوں گی اور نہ ان کی حمایت کریں گی۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’داعش کی علاقائی خلافت کو شکست سے دوچار کرنے والی امریکی فورسز اب اس علاقے میں موجود نہیں رہیں گی۔‘‘

کرد فورسز کے مطابق امریکی فوجیوں نے شام کے شمال میں ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے سے انخلا شروع کردیا ہے۔