.

تیونس :صدارتی امیدوار نبیل القروی کی پولنگ سے قبل رہائی کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی ایک اپیل عدالت نے صدارتی امیدوار نبیل القروی کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

میڈیا ٹائیکون نبیل قروی کو اگست میں صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے سے قبل منی لانڈرنگ اور ٹیکس بچانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور انھوں نے اپنی انتخابی مہم کا تمام عرصہ جیل ہی میں گزارا ہے۔انھوں نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کی تردید کی تھی۔

یورپی یونین کے مبصر مشن نے منگل کے روز اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ تیونس میں صدارتی انتخاب کے دوسرے اور حتمی مرحلے کے دونوں امیدواروں کو آزادانہ طور پر مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ ایک صدارتی امیدوار جیل میں ہیں اور دوسرے نے اپنی عوامی رابطہ مہم ترک کردی ہے۔

واضح رہے کہ تیونس کی ایک عدالت نے چند روز قبل نبیل قروی کی جیل سے رہائی کی اپیل مسترد کردی تھی اور انھیں ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے مقدمے کے فیصلے تک زیر حراست رکھنے کا حکم دیا تھا۔

نبیل قروی تیونس کی میڈیا اندسٹری کی ایک بڑی شخصیت ہیں اور وہ ایک ٹیلی ویژن چینل کے مالک ہیں۔وہ گذشتہ ماہ تیونس میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

تیونس کے الیکشن کمیشن نے انھیں اس مقدمے کے باوجود صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی اور کہا تھا کہ وہ اپنے خلاف عدالت کے فیصلے تک انتخاب لڑسکتے ہیں۔

صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ 13 اکتوبر اتوار کو ہوگی۔نبیل قروی کا مقابلہ پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے صدارتی امیدوار قانون کے ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید سے ہوگا۔