.

روس کا کُردوں اور شامی حکومت کے درمیان بات چیت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کا کہنا ہے کہ ماسکو شام کے شمال مشرق میں حالیہ صورت حال کے حوالے سے شامی حکومت اور کردوں کے درمیان بات چیت کی دعوت دیتا ہے۔

بدھ کے روز قازقستان کے دارالحکومت نور سلطان میں بات چیت کے بعد لاؤروف نے مزید کہا کہ شام میں کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں کشیدگی میں اضافے سے گریز کرنا ضروری ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے شمالی شام میں امریکی انخلا کے حوالے سے واشنگٹن کے متضاد اشاروں کے خطرات سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "اس سے پورا علاقہ بھڑک سکتا ہے"۔ لاؤروف کا کہنا تھا کہ علاقے میں امریکی فورسز کے انخلا کے اعلان کے بعد کردوں کو "شدید تشویش" محسوس ہو رہی ہے۔

دوسری جانب شمالی شام میں کرد خود مختار انتظامیہ کے مشیر دران جیا کُرد نے بدھ کی صبح العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "ترکی کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے تساہل برتا گیا تو ہم بھرپور جواب دینے کے لیے روس اور شامی حکومت کے ساتھ رابطہ کر سکتے ہیں۔ تاہم ابھی تک ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے"۔

کرد مشیر نے دمشق اور ماسکو میں ذمے داران سے مطالبہ کیا کہ وہ ترکی کے قبضے کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں پوری کریں جو کہ شامی اراضی کی وحدت کے لیے خطرہ ہے۔