.

بحران سے دوچار انقرہ حکومت زیادہ گہری دلدل میں پھنسنے جا رہی ہے : ترک اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک اخبار BirGün کے مطابق بین الاقوامی تعلقات کے امور کے ماہرین نے شام میں انقرہ حکومت کے حالیہ فوجی آپریشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کارروائی کو امریکا کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

پروفیسر ایلہان اوزغال کا کہنا ہے کہ انقرہ حکومت داعش کے جنگجوؤں کے حوالے سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کر سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "دریائے فرات کے مشرق میں داخل ہونے کے مقبال امریکا نے داعش کا بوجھ ترکی کے حوالے کر دیا۔ اس طرح واشنگٹن نے اس بوجھ کے اخراجات سے چھٹکارہ پا لیا اور جرمنی اور فرانس کو ایک پیغام بھی پیش کر دیا۔ میرے خیال میں ان مذاکرات کا ایک حصہ یہ ہے کہ ترکی ڈیموکریٹک یونین پارٹی کے علاقوں میں براہ راست داخل نہ ہو ... میں نہیں جانتا کہ پردے کے پیچھے مذاکرات کا عمل کس طرح پورا ہوا"۔

اوزغال کے مطابق حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی اس طرح داخلی پالیسی کی کئی مشکلات پر قابو پانے کی کوشش کرے گی اور وہ اقتصادی مسائل کو نظر انداز کر کے قوم پرستی کو مضبوط بنانے کی خواہاں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ "فرات کی ڈھال اور زیتون کی شاخ آپریشن ہوں یا اب حالیہ فوجی کارروائی ... یہ سب ترکی کو کھینچ کر دلدل میں لے جائیں گے۔ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی خطے میں اپنے عسکری مقاصد کو یقینی بنا سکتی ہے مگر وہ نہیں جانتی کہ آیا وہ اپنے طویل المیعاد سیاسی اہداف پورے کرنے میں کامیاب ہو سکے گی۔ آپ کسی بھی جگہ عسکری مداخلت کر سکتے ہیں مگر اس جگہ سے نکلنا دشوار ترین امر ہوتا ہے۔ یہ وہ بات ہے جس کا ادراک جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کو نہیں ہے"۔

دوسری جانب خارجہ پالیسی کے امور کے ماہر سمیح ایڈیز کا کہنا ہے کہ " امریکی صدر کے مطابق وہ اپنے فوجیوں کو وطن واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ درحقیقت ٹرمپ کو اس وقت داخلہ پالیسی میں مشکل کا سامنا ہے۔ لہذا اس وجہ سے امریکی صدر عوامی اسلوب سے اپنے عوام پر کو متاثر کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ میرے نزدیک ٹرمپ کا حالیہ فیصلہ امریکا کی خارجہ پالیسی سے زیادہ اس کی داخلہ پالیسی سے متعلق ہے۔ یہ بات امریکا میں بہت سے شخصیات نے کی ہے"۔

سمیح کا کہنا ہے کہ "یہ سب آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا جب ترکی کو اس دلدل میں تنہا چھوڑ دیا جائے گا"۔