.

سلامتی کونسل کے رکن یورپی ممالک کا ترکی سے شام میں فوجی کارروائی روکنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن پانچ یورپی ممالک نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر شام میں کرد فورسز کے خلاف جاری کارروائی روک دے۔

سلامتی کونسل کے دو مستقل رکن فرانس اور برطانیہ اور تین غیر مستقل رکن ممالک جرمنی ، بیلجئیم اور پولینڈ نے جمعرات کو ایک ہنگامی اجلاس کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’ہمیں شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترک فوج کی کارروائی پر گہری تشویش لاحق ہے۔‘‘

انھوں نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے خلاف یک طرفہ فوجی کارروائی فوری طور پر روک دے۔

ترک فوج اور اس کے اتحادی شامی باغیوں پر مشتمل جیش الحر نے بدھ کو کرد ملیشیا کے خلاف ’آپریشن امن بہار‘ کے نام سے فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔اس کے ردعمل میں یورپی ممالک کا یہ پہلا بیان ہے۔ کرد ملیشیا شام میں داعش کے خلاف جنگ میں امریکا اور یورپی ممالک کی اتحادی رہی ہے اور یہی ممالک اس کو اسلحہ اور مالی امداد مہیا کرتے رہے ہیں۔