.

ترکی کی شام میں امریکی فوجیوں کو ہدف بنانے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے شمالی شام میں امریکا کے ایک فوجی اڈے کو حملے میں ہدف بنانے کی تردید کردی ہے۔اس سے پہلے امریکا کے محکمہ دفاع پینٹاگان نے اپنے فوجیوں پر توپ خانے سے گولہ باری کی اطلاع دی تھی۔

ترک وزیر دفاع حلوسی عکار نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’امریکا کی مبصر چوکی پر کوئی گولی نہیں چلائی گئی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) نے شام میں امریکا کی مبصر چوکی سے کوئی ایک کلومیٹر دور علاقے سے جمعہ کو ترکی کے ایک سرحدی پولیس اسٹیشن پر گولہ باری کی تھی۔اس کے جواب میں ترکی نے بھی گولہ باری کی تھی‘‘۔

پینٹاگان نے کہا تھا کہ شام کے سرحدی شہر کوبانی کے نزدیک امریکا کے ایک ٹھکانے سے چند سو میٹر دور ایک دھماکا ہوا تھا۔اس نے خبردار کیا تھا کہ امریکا کسی بھی جارحیت پر فوری دفاعی اقدام کے لیے تیار ہے۔

حلوسی عکار نے وضاحت کی ہے’’کردوں کے خلاف اس کارروائی سے قبل تمام ضروری پیشگی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے تاکہ امریکی چوکی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ جب امریکیوں نے رابطہ کیا تھا تو ترک فورسز نے حفظ ماتقدم کے طور پر فائرنگ روک دی تھی۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہمارے کمانڈ سنٹر اور امریکیوں کے درمیان ضروری روابط استوار کیے جا رہے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ امریکی فوجیوں کو گذشتہ ہفتے ترکی اور شام کے درمیان واقع سرحدی علاقے سے ترک فوج کی کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی سے قبل واپس بلا لیا گیا تھا۔

کردملیشیا (وائی پی جی) داعش کے خلاف امریکا کی جنگ میں قریبی اتحادی رہی تھی لیکن ترکی اس کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتا ہے۔ وہ اس کواپنے ہاں کی کرد علاحدگی پسند جماعت کردستان ورکرز پارٹی کا حصہ قرار دیتا ہے۔اس کو بھی ترکی نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔