.

ہالینڈ اور جرمنی کے بعد فرانس نے بھی ترکی کو اسلحہ فروخت معطل کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں فوجی کارروائی کے ردعمل میں یورپی ممالک کی طرف سے ترکی پر سخت دبائو ڈالنے کی پالیسی پرعمل شروع کر دیا گیا ہے۔ جرمنی اور ہالینڈ کے بعد فرانس نے بھی ترکی کو اسلحہ کی سپلائی معطل کر دی ہے۔

فرانس نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اس نے ترکی کو ہر طرح کے ہتھیاروں کی فروخت معطل کرتے ہوئے انقرہ کو متنبہ کیا ہے کہ شمالی شام میں اس کے حملے سے یورپی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔

فرانسیسی دفاع اور خارجہ وزارتوں کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے فرانس، جس سے یہ حملہ ختم ہونے کی توقع ہے نے ترکی کو اسلحہ برآمد کرنے کے تمام منصوبوں کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کے روز لکسمبرگ میں ہونے والے اجلاس میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھی اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔

شامی آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس کے مطابق کردوں نے شمال مشرقی شام میں کرد باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر ترک حملے نے ہزاروں شہریوں کو بے گھر کر دیا ہے۔

بین الاقوامی مذمت

شمال مشرقی شام میں ترک فوجی حملے کے بعد عالمی برادری کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور اس کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔

جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جرمنی نے ترکی میں ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی عاید کر دی ہے تاکہ وہ شام میں استعمال ہو سکے۔

قبل ازیں ہالینڈ نے ترکی میں فوجی ساز وسامان کی برآمد کے لیے تمام درخواستوں کی معطلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یورپی یونین کے دیگر ممبر ممالک سے بھی ایسا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

فرانسیسی ایوان صدر نے اعلان کیا تھا کہ صدر عمانویل ماکروں نے شام میں ترکی کا حملہ جلد سے جلد روکنے کے لیے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت میں خطے میں داعش کی واپسی کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔

امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوشن نے کہا کہ ٹرمپ نے امریکی حکام کو فوجی کارروائی کے بعد ترکی کے خلاف نئی "سخت ترین" پابندیوں کا مسودہ تیار کرنے کا اختیار دیا ہے۔