.

بھارت اور چین کے درمیان جنگ جوہری ہو گی اور کروڑوں لوگوں کی جان چلی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی جریدے "National Interest" کی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر بھارت اور چین کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو غالب گمان ہے کہ یہ جوہری صورت اختیار کر لے گی اور اس کے اثرات چین اور بھارت سے نکل کر دور تک پھیل جائیں گے۔

دونوں ممالک کے بیچ جنگ ممکنہ طور پر ایشیا اور دنیا میں سب سے بڑی اور سب سے تباہ کن جنگوں میں سے ہو گی۔ اس کے سبب جانبین کا بھاری جانی نقصان ہو گا اور یہ عالمی معیشت پر بہت گہرے طور پر اثر انداز ہو گی۔ تاہم جغرافیہ اور آبادیاتی تناسب شاید اس جنگ میں منفرد کردار ادا کرے۔

بھارت اور چین کی سرحدیں دو مقامات پر ملتی ہیں اور ان دونوں جگہاؤں پر علاقائی تنازعات پائے جاتے ہیں۔ اکتوبر 1962 میں چین نے مذکورہ دونوں محاذوں پر حملہ کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگ ایک ماہ تک جاری رہی اور پھر زمینی طور پر چین کے لیے بعض سادہ سے فوائد کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

فریقین میں سے کسی بھی جانب سے "جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بغیر جنگ شروع کرنے کی پالیسی" جوہری جنگ چھڑنے کو بڑی حد تک خارج از امکان بنا دے گی۔ دونوں ملکوں میں بہت بڑی آبادی بستی ہے جن میں ہر ملک میں 1.3 ارب سے زیادہ نفوس موجود ہیں۔ تمام جدید جنگوں کی طرح بھارت اور چین کے درمیان کوئی بھی جنگ زمینی، بحری اور فضائی ذرائع سے لڑی جائے گی۔ اس حوالے سے فضائی کارروائیوں پر مرکزی طور سے توجہ مرکوز ہو گی جن میں لڑاکا طیاروں اور میزائلوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ممکنہ طور پر بھارت سمندری تنازع پر کنٹرول پانے کے حوالے سے منفرد مقام کا حامل ہے جو اس کے لیے اہم کارڈ ثابت ہو گا اور چینی معیشت پر اس کے بھیانک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکی جریدے کے مطابق چین اپنی فضائی قدرت کو بیلسٹک میزائلوں سے پورا کر سکتا ہے خواہ وہ جوہری ہوں یا پھر روایتی میزائل ہوں۔ انسان اس تباہی کا تصور کر سکتا ہے جوDF-11، DF-15 اورDF-21 ساخت کے مختصر اور درمیانی مار کے 2000 میزائل بھارت کے ٹھکانوں پر پہنچ کر مچا سکتے ہیں۔ ان میزائلوں کو بھارت کی سرزمین پر تزویراتی اہداف کو نشانہ بنانے کے واسطے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

البتہ اس بات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ فضا میں اڑان بھرنے کا مرحلہ آیا تو بھارتی فضائیہ مسابقت میں چینی فضائیہ سے بہتر پوزیشن میں ہو گی۔ اگرچہ یہ جنگ چین کی کم آباد سرحد پر چھڑے گی تاہم نئی دہلی تبت کی سرحد سے صرف 213 میل کی دوری پر ہے۔

بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں میں Su-30Mk1 Flankers، مگ 29 اور میراج 2000 شامل ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ بھارت اتنی تعداد میں لڑاکا طیارے رکھتا ہے کہ ایک ہی وقت میں دو محاذوں پر جنگ سے نمٹ سکے۔ بالخصوص اگر اسی دوران بھارت پاکستانی فضائیہ کا مقابلہ کرنے پر بھی مجبور ہو گیا۔

امریکی جریدے کا مزید کہنا ہے کہ کم از کم قریبی مدت میں بھارت کسی طور بھی چین کے بیلسٹک میزائلوں کے حملے کا جواب دینے پر قادر نہیں۔ شنک یانگ اور تبت سے داغے جانے والے میزائل بھارت کے شمال میں نصف حصے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ بھارت کے پاس بیلسٹک میزائلوں کے خلاف دفاعی صلاحیت نہیں۔

ایسا نظر آتا ہے کہ بھارت اور چین کی افواج کے درمیان زمینی جنگ اس معرکہ آرائی کا زیادہ فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہو گا ... تاہم درحقیقت یہ بالکل برعکس ہو گا۔ بھاری توپ خانوں کا سہارا لے کر اجتماعی حملوں کو بآسانی روکا جا سکتا ہے۔ اس لیے کہ حملہ آور زمینی فورسز وادیوں اور پہاڑی راہ داریوں کے درمیان تتر بتر ہوں گی۔ بھارتی بری فوج کی تعداد 12 لاکھ جب کہ چین کی بری فوج کی تعداد 22 لاکھ ہے۔

سمندر کا معرکہ دونوں ملکوں کے بیچ تنازع میں فیصلہ کن محاذ ثابت ہو گا۔ اس لیے کہ بھارت بحرِ ہند کے کناروں ے پر واقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین کی گردن اس کے ہاتھوں میں ہو گی۔ بھارتی بحریہ اپنی آب دوزوں، طیارہ بردار بحر جہاز INS Vikramaditya اور جنگی جہازوں کے ذریعے آسانی سے چین کی یورپ، مشرق وسطی اور افریقا کے ساتھ تجارتی آمد و رفت کو کم کر سکتی ہے۔ اس کے مقابل چینی بحریہ کو بھارتی محاصرہ توڑنے کے لیے اپنی بحریہ کے وسائل کو تعینات کرنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

امریکی جریدے کے مطابق چین کو آنے اور جانے والی کارگو کھیپوں کا رخ مجبورا بحر الکاہل کے مغرب کے راستے تبدیل کر دیا جائے گا۔ یہ بات معروف ہے کہ چین کی ضرورت کی مجموعی درآمدات میں 87% تیل ہوتا ہے جو خاص طور پر مشرق وسطی اور افریقا سے آتا ہے۔ چین میں تیل کے تزویراتی ذخائر ممکنہ طور پر 77 روز تک ملک میں ایندھن کی قلت کو روک سکتے ہیں۔ تاہم اس کے بعد چین پر لازم ہو گا کہ وہ جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔

بھارت اور چین کے درمیان جنگ مختصر اور طویل دونوں مدتوں کے لیے دونوں ملکوں، براعظم ایشیا اور عالمی معیشت پر بھیانک نتائج مرتب کرے گی۔ طاقت کا توازن اور جغرافیائی قیود واضح کرتی ہیں کہ یہ جنگ یقینا فیصلہ کن ثابت نہیں ہو سکے گی۔